گردو پیش:نازش احتشام اعظمی
رمضان المبارک کی آمد کا تصور ہی روح میں ایک ایسی بالیدگی اور قلوب میں وہ ارتعاش پیدا کر دیتا ہے جو کسی اور موسم یا مہینے کے مقدر میں نہیں۔ یہ محض تقویمِ ہجری کا ایک ورق نہیں، بلکہ نزولِ انوار کی وہ برکھا ہے جو بنجر دلوں کو گلزار بنانے آتی ہے۔ جب ہلالِ رمضان افقِ گیتی پر نمودار ہوتا ہے، تو کائنات کا ذرہ ذرہ پکار اٹھتا ہے: شَهْرُ رَمَضانَ الَّذی أُنْزِلَ فیهِ الْقُرْآنُ هُدیً لِلنَّاسِ وَ بَیِّناتٍ مِنَ الْهُدی وَ الْفُرْقانِ۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں زمین کا رشتہ آسمان سے استوار ہوتا ہے اور مادیت کے غبار میں اٹی ہوئی انسانیت کو دوبارہ اپنی اصل، یعنی روحانیت کی طرف پلٹنے کا پیغام ملتا ہے۔ لیکن اس روحانی ارتقاء کے ساتھ ساتھ، اسلام کا حکیمانہ نظامِ زندگی انسان کے مادی وجود، اس کی جسمانی صحت اور اس کے معاشی معاملات کو بھی ایک خاص نظم و ضبط کے تابع کر دیتا ہے، جہاں طبی حکمتیں اور تجارتی سرگرمیاں ایک مقدس توازن میں ڈھل جاتی ہیں۔
طبی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو صیام کا عمل محض فاقہ کشی کا نام نہیں، بلکہ یہ تزکیہِ نفس کے ساتھ ساتھ "تزکیہِ بدن” کا بھی ایک بے مثال ذریعہ ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ (اور تمہارا روزہ رکھنا تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو)۔ آج کی جدید طب جس ‘انٹرمٹنٹ فاسٹنگ’ (Intermittent Fasting) کے گن گا رہی ہے، اسے محسنِ انسانیت ﷺ نے چودہ سو سال قبل ایک مربوط عبادت کی شکل میں عطا فرما دیا تھا۔ جب انسان سحر سے افطار تک امساکِ باطن اختیار کرتا ہے، تو اس کا نظامِ ہضم جو سال بھر کی پیہم مشقت سے نڈھال ہوتا ہے، اسے آرام میسر آتا ہے۔ جسم کے اندر موجود زہریلے مادے (Toxins) خارج ہونے لگتے ہیں اور میٹابولزم کا وہ نظام جو سست پڑ چکا ہوتا ہے، دوبارہ جلا پاتا ہے۔ یہ فاقہ نہیں، بلکہ بدن کی "سروسنگ” ہے جس سے خون کی شریانیں صاف ہوتی ہیں اور قلب کو ایک نئی جلا ملتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا فرمانِ عالی شان ہے: "صُومُوا تَصِحُّوا” (روزہ رکھو تاکہ تندرست ہو جاؤ)۔ یہ مختصر جملہ طبِ جدید کے ضخیم دفاتر پر بھاری ہے، کیونکہ یہ بتاتا ہے کہ شفاء دواؤں کی شیشیوں میں نہیں، بلکہ فطرت کے اصولوں کی پیروی اور شکم کی بے جا پرورش سے ہاتھ روکنے میں پنہاں ہے۔
تاہم، اس طبی برکت کا حصول اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم اشیائے خورد و نوش کے استعمال میں اعتدال اور قرآنی حکم كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا (کھاؤ اور پیو مگر اسراف نہ کرو) کو اپنا حرزِ جان نہ بنا لیں۔ افسوس کہ عصرِ حاضر میں ہم نے افطار کے دسترخوانوں کو محض ذائقوں کی نمائش گاہ بنا دیا ہے۔ جہاں سنتِ نبوی ﷺ کھجور کے چند دانوں اور سادگی پر محیط تھی، وہاں آج مرغن غذاؤں، تلے ہوئے پکوانوں اور شکر آمیز مشروبات کا وہ طوفان ہوتا ہے جو روزے کے تمام طبی فوائد کو غارت کر دیتا ہے۔ سحری میں ایسی غذاؤں کا انتخاب جو دیرپا توانائی فراہم کریں، جیسے کہ ثابت اناج اور ریشہ دار اشیاء، اور افطار میں قدرتی شکر (کھجور) سے توانائی کی فوری بحالی، یہ وہ نبوی طریقِ کار ہے جو انسان کو چاق و چوبند رکھتا ہے۔ یاد رہے کہ معدہ تمام بیماریوں کا گھر ہے اور پرہیز تمام دواؤں کی بنیاد؛ لہٰذا رمضان کا طبی مقصود اسی وقت حاصل ہوگا جب ہم اپنی اشتہا پر قابو پا کر بدن کو اس کے فطری توازن پر لوٹنے کا موقع دیں گے۔
دوسری جانب، تجارتی و معاشی لحاظ سے رمضان المبارک دنیا کے سب سے بڑے "کنزیومر مارکیٹ” (Consumer Market) کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جہاں رزق کے دروازے ہر خاص و عام کے لیے کھل جاتے ہیں۔ قرآن کا یہ اصول کہ "اللہ جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے”، اس مہینے میں بازاروں کی گہما گہمی اور معاشی گردش کی صورت میں عملی نمونہ بن کر سامنے آتا ہے۔ اشیائے خورد و نوش کی تجارت میں جو تیزی اس مہینے میں دیکھی جاتی ہے، وہ سال کے باقی گیارہ مہینوں میں مفقود ہوتی ہے۔ کھجوروں کے باغات سے لے کر دودھ کی نہروں تک اور غلے کے انبار سے لے کر مصالحہ جات کی خوشبو تک، سپلائی چین کا ہر مہرہ متحرک ہو جاتا ہے۔ یہ تجارتی سرگرمی محض نفع خوری کا نام نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اسے ایک "خدمتِ خلق” اور "اجرِ عظیم” کے تصور سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ تاجر برادری کو یہ سمجھنا چاہیے کہ روزہ دار کو سستی اور معیاری اشیاء فراہم کرنا اس کے لیے صدقہِ جاریہ ہے، کیونکہ رزاقِ حقیقی وہی ہے اور بندوں کی حاجت روائی برکت کا سبب بنتی ہے۔
لیکن یہاں یہ المیہ بھی سامنے آتا ہے کہ تجارتی مفادات بعض اوقات اخلاقی حدود کو عبور کر جاتے ہیں۔ ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی گرانی وہ ناسور ہیں جن کے بارے میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔ اسلام نے تجارت کو "کسبِ حلال” قرار دے کر عبادت کا درجہ دیا ہے، بشرطیکہ اس میں دیانت اور امانت کا عصر غالب ہو۔ رمضان کی آمد پر قیمتوں کا بڑھ جانا صریحاً اس روح کے منافی ہے جو یہ مہینہ ہمیں سکھاتا ہے۔ تجارتی نقطۂ نظر سے یہ مہینہ "کوانٹٹی” (Quantity) کے بجائے "کوالٹی” (Quality) کی ترویج کا ہونا چاہیے۔ آج کی مارکیٹ میں صحت بخش اشیاء (Health Foods) کا بڑھتا ہوا رجحان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اب صارف بیدار ہو رہا ہے۔ لوگ اب صرف پیٹ بھرنے کے لیے نہیں، بلکہ بدن کی توانائی برقرار رکھنے کے لیے سائنسی اور طبی بنیادوں پر تیار کردہ مصنوعات تلاش کر رہے ہیں۔ یہ تاجروں کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ وہ حلال اور طیب (پاکیزہ و صحت بخش) اشیاء کو فروغ دے کر اپنی تجارت کو عصری تقاضوں اور شرعی احکام کے مطابق ڈھالیں۔
الغرض، رمضان کی آمد ایک ہمہ گیر انقلاب ہے جو ہماری روح، بدن اور معاش کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے۔ طبی حکمت ہمیں ضبطِ نفس اور اعتدال سکھاتی ہے، تو تجارتی وسعت ہمیں سخاوت اور معاشی استحکام کا درس دیتی ہے۔ اگر ہم سحر و افطار میں نبوی سادگی کو حرزِ جان بنا لیں اور تجارت میں دیانت کو اپنا شعار، تو یہ مہینہ صرف انفرادی صحت کی بہتری کا ذریعہ نہیں رہے گا بلکہ ایک ایسی توانا اور معاشی طور پر مستحکم سوسائٹی کی بنیاد بنے گا جہاں ہر شخص دوسرے کے دکھ درد کا شریک ہو۔ یہ وہ مبارک دورانیہ ہے جس میں "پیٹ کا کم کھانا” اور "ہاتھ کا زیادہ دینا” ہی اصل کامیابی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس رمضان میں اپنی صحت کی حفاظت، حلال رزق کی وسعت اور ایمان کی حلاوت سے مالا مال فرمائے، اور ہم اس کے فیوض و برکات کو سمیٹنے والے بن سکیں۔ آمین۔








