دوٹوک: قاسم سید
قطر میں حماس کے لیڈروں پر اسرائیل کا فضائ حملہ جس میں بظاہر کوئی بڑا جانی نقصان نہیں یوا، لیکن اس نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں زلزلہ برپا کر دیا ہے۔۔یہ پوشیدہ نہیں ہے کہ اسرائیلی حکومت 7 اکتوبر 2023 کے بعد حماس کے ساتھ ’حساب برابر‘ کرنے کے جنون میں مبتلا ہے ـاس نے اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے لبنان ہو یا ایران ،شام ہو یا عراق کسی کو نہیں چھوڑا ـ ٹرمپ کی آمد کے بعد ان کے ‘آشیرواد’ نے نیتن یاہو کو شتر بے مہار بنادیا ـ قطر میں حماس کے لیڈروں پر حملہ کو بھی ٹرمپ کی درپردہ حمایت حاصل تھی جیسا کہ وہائٹ ہاؤس سے اشارہ ملا ہے یہی اس کا سب سے خطرناک پہلو اور مشرق وسطی کے لیے الارم ہے جو بدقسمتی سے حماس کا خاتمہ چاہتا ہے ،اس کو یہ احساس ضرور ہونا چاہیے کہ دوسروں کا گھر جلانے میں اپنی انگلیاں بھی جل جاتی ہیں اور کبھی پورا وجود جھلس جاتا ہے ۔ یہ محض ایک عسکری واقعہ نہیں بلکہ اس کے گہرے سیاسی، سفارتی اور تزویراتی اثرات ہوں گے ـ قطر کی راجدھانی دوحہ سفارتی مرکز ہے جو امریکہ کی پسندیدہ جگہ ہے یہیں طالبان اور امریکہ کے درمیان ڈائیلاگ ہوئے تھے جس کے نتیجہ میں طالبان نے اقتدار حاصل کیا ،یہں پر حماس اور اسرائیل کے مابین مذاکرات ہوتے رہے ہیں اور یہاں پر امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ بھی ہے جہاں آٹھ ہزار فوجی اور سو کے قریب بمبار طیارے قطر کی حفاظت کے نام پر تعینات ہیں ـجینیوا کی حیثیت لے چکے دوحہ میں حملہ ہوسکتا ہے تو پھر دنیا کا کوئی خطہ محفوظ نہیں ہے ۔یہ اس حملے کا سب سے بڑا پیغام ہے وہیں مائٹ از رائٹ کا نقطہ عروج بھی ہے ۔ یاد رہنا چاہیے کہ قطر امریکہ کا اہم اتحادی ہے ـاس پس منظر میں یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ اسرائیل کو یہ جرات کہاں سے ملی؟ کیا وہ صرف وقت گزاری کے لیے امن مذاکرات کا ڈھونگ کررہا ہے اور کیا ٹرمپ بھی صرف دکھاوا کررہے ہیں ،اسرائیل نے اس سے قبل کلیدی مذاکرات کار اسماعیل ہنیہ کو ایران میں گھس کر شہید کردیا تھاـ اب مذاکراتی ٹیم پر یہ ٹارگٹڈ حملہ تھا جس میں معجزاتی طور پر ٹیم بچ گئی
اسرائیل نے وقتا فوقتاً ظاہر کیا ہے وہ اپنی سلامتی کے نام پر کسی بھی ملک کی خودمختاری پامال کرنے میں ہچکچاتا نہیں۔ لیکن قطر پر حملہ ایک نئی صورت حال ہے۔ یہ وہ ملک ہے جو نہ صرف امریکہ کا اتحادی ہے بلکہ کئی دہائیوں سے فلسطین کے لیے سفارتی اور مالی مدد فراہم کرتا آیا ہے۔ قطر میں حماس کی سیاسی قیادت کی موجودگی اسرائیل کو ہمیشہ کھٹکتی رہی ہے، اور اب اس پر حملہ دراصل دو پیغامات دیتا ہے: ایک حماس کے لیے کہ دنیا میں کہیں بھی محفوظ پناہ گاہ باقی نہیں رہی، اور دوسرا قطر کے لیے کہ وہ فلسطینی مزاحمت کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرِ ثانی کرے۔
ٹرمپ کی بے لگام پالیسی نے اس جارحیت کو مزید جواز فراہم کیا ہے۔ ٹرمپ کے دور میں امریکہ نے اسرائیل کو نہ صرف سفارتی بلکہ عملی میدان میں بھی کھلی چھوٹ دی۔ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا ہو، یا گولان ہائٹس پر اسرائیلی قبضے کو قانونی رنگ دینا، یہ سب اسی پالیسی کی کڑیاں ہیں۔ قطر میں حملے کے بعد اگر امریکی انتظامیہ کی زبان پر دبی دبی خاموشی ہے تو یہ خاموشی دراصل اس کی رضامندی ہے۔عرب ممالک کو یہ سوچنا پڑے گا کہ اب ہماری بھی شامت آگئی ہے اسرائیل نے جب امریکہ کے ‘لاڈلے’ پر ہاتھ ڈال دیا تو پھر کسی کی سلامتی کی ضمانت نہیں ـ,غزہ سے بڑا تحفہ ایک ‘بلڈر’ کے لیے کیا ہوسکتا ہے بھلے ہی وہ صدر ہو
قطر کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ قطر اور امریکہ کے تعلقات ہمیشہ قریبی رہے ہیں۔ دوحہ میں امریکی فضائی اڈہ نہ صرف خطے میں امریکی بالادستی کی علامت ہے بلکہ اس کی عملی ضرورت بھی۔ افغانستان سے لے کر خلیج تک امریکی کارروائیوں کا بڑا انحصار اسی اڈے پر رہا ہے۔ لیکن اسرائیلی حملہ اس رشتے پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرسکتا ہے۔ اگر امریکہ اپنے اتحادی کی خودمختاری کا تحفظ نہیں کر سکتا تو قطر کے پاس کیا ضمانت ہے کہ آئندہ وہی اڈہ یا اس کی زمین دوبارہ اسرائیلی جارحیت کا میدان نہیں بنے گی؟ یہی وہ مقام ہے جہاں قطر کو اپنی خارجہ پالیسی پر ازسرِنو غور کرنا پڑے گا۔یہ حملہ صرف قطر کے لیے نہیں بلکہ پورے عرب خطے کے لیے پریشان کن ہے۔ سعودی عرب اور امارات جیسے ممالک حالیہ برسوں میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی راہ پر گامزن ہیں۔ ان کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ اسرائیل جس ملک کے ساتھ بھی اپنے مفاد میں ٹکرائے گا، وہاں حملہ کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔ مصر، جو غزہ کا پڑوسی ہے اور ثالثی میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے، اس حملے کے بعد اپنی پوزیشن کمزور پاتا ہے۔ اردن اور کویت جیسے ممالک پر عوامی دباؤ مزید بڑھے گا کہ وہ فلسطین کے ساتھ زیادہ واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کریں۔
قطر میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کی کوشش فلسطینی مزاحمت کے لیے جارحانہ پیغام ہے کہ اب محفوظ پناہ گاہیں بھی خطرے سے خالی نہیں گرچہ فلسطینی تحریکیں ہر بار قیادت کے نقصان کے بعد زیادہ شدت کے ساتھ ابھری ہیں۔ اس حملے کے بعد امکان ہے کہ حماس اور دیگر مزاحمتی گروہ اپنی قیادت کو زیادہ منتشر اور خفیہ انداز میں منظم کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران اور ترکی جیسے ممالک میں ان کی موجودگی بڑھ سکتی ہے، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ خطے میں فلسطینی مزاحمت مزید "ایران نواز” رنگ اختیار کرے گی۔ یہ صورت حال اسرائیل کے لیے وقتی کامیابی تو ہے لیکن طویل المدت میں اس کے لیے زیادہ خطرناک اور یہ جوا مہنگا ثابت ہو،خارج از امکان نہیں کہا جاسکتا دنیا کی طاقتیں اس معاملے میں ایک بار پھر زبانی ہمدردی کے ساتھ دوغلا کردار دکھا رہی ہیں ۔ یورپ نے بھی بظاہر تشویش کا اظہار کیا کیونکہ قطر اس کے لیے توانائی اور سفارت کاری دونوں لحاظ سے اہم ہے۔ لیکن عملی طور پر اسرائیل کے خلاف کوئی قدم اٹھانے کا امکان کم ہے۔ اقوامِ متحدہ رسمی قرارداد یا مذمت سے آگے نہیں بڑھا ۔ مسلم دنیا میں عوامی ردعمل شدید ہویہ بھی نہیں لگتا کیونکہ سب دباؤ میں ہیں ،اسرائیل سے بارہ روزہ جنگ کے بعد ایران کا ‘جذبہ حریت’ بھی کمزور ہوگیا ہے حکومتیں امریکہ اور خلیجی سیاست کے دباؤ کے باعث محتاط رویہ اپنائیں گی۔ یہی عالمی نظام کی کمزوری ہے کہ طاقتور کی جارحیت کے آگے سب خاموش ہوجاتے ہیں۔
بہر حال قطر پر حملہ پورے خطے کے لیے ایک بڑا سیاسی پیغام ہے۔ سوال یہ ہے کہ قطر اور دیگر عرب ممالک اس چیلنج کا مقابلہ کریں گے؟۔ کیا وہ اسرائیل کے سامنے جھک جائیں گے یا اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے زیادہ آزادانہ خارجہ پالیسی اپنائیں گے؟
عرب دنیا کے پاس آج ایک موقع ہے کہ وہ اجتماعی طور پر اپنی سرحدوں اور خودمختاری کا دفاع کرے۔ اگر یہ موقع ضائع ہوگیا تو اسرائیل کل کسی اور دارالحکومت پر حملہ کرنے سے بھی دریغ نہیں کرے گا۔ اور تب صرف فلسطین نہیں بلکہ پورا خطہ اس کی جارحیت کا شکار ہوگا۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ عرب دنیا اور عالمی برادری اسرائیل کو یہ پیغام دے کہ کسی بھی ملک کی سرزمین کو جنگی مہم جوئی کے لیے استعمال کرنا ناقابلِ برداشت ہے۔ بصورت دیگر مشرقِ وسطیٰ ایک نئی اور زیادہ خطرناک آگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔قطر سے دیاگیا پیغام بہت صاف اور دوٹوک ہے ،وہ یہ کہ جب قطر کو نہیں بخشا گیا تو پھر کوئی نہیں بچےگا، یار، وفادار، غدار، مددگار سب بوقت ضرورت لٹکا دیے جائیں گے-











