* فیض الرحمن اقدس اصلاحی
اردو زبان برصغیر کی مشترکہ تہذیب، تاریخ اور ثقافتی ورثے کی ترجمان زبان ہے۔ یہ نہ صرف ادب و شاعری کی زینت ہے بلکہ ہندوستان کی کثیر لسانی شناخت میں بھی نمایاں مقام رکھتی ہے۔ اردو کے فروغ و تحفظ کے لیے حکومتِ ہند نے 1996 میں نیشنل کونسل فار پرموشن اردو لینگویج (NCPUL) کا قیام عمل میں لایا۔ یہ ادارہ وزارتِ تعلیم کے تحت ایک خود مختار قومی ادارہ ہے، جس کا بنیادی مقصد اردو زبان کی ترویج، ترقی اور اشاعت کے لیے جامع منصوبہ بندی اور عملی اقدامات کرنا ہے۔
تاہم موجودہ دور میں اس ادارے کی کارکردگی، ترجیحات اور پالیسیوں کے حوالے سے مختلف حلقوں میں سنجیدہ بحث و مباحثہ جاری ہے۔ یہ مضمون اسی ادارے کی موجودہ صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہوئے ان عوامل کا متوازن اور تعمیری تجزیہ پیش کرتا ہے جو اس کی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں۔
آج سے تقریباً دس برس قبل جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی میں ایک علمی سیمینار کے دوران پدم شری پروفیسر اختر الواسع صاحب کی تقریر کے چند جملے یاد آتے ہیں:
”معاف کیجیے، مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ اردو زبان کی حقیقی خدمت اردو ڈپارٹمنٹس یا سرکاری ادارے نہیں بلکہ اردو مدارس اور طبیہ کالجز کر رہے ہیں، جہاں یہ زبان عملی طور پر زندہ ہے۔“

یہ رائے اپنی جگہ اہم ہے اور اس میں حقیقت کا ایک پہلو بھی نمایاں ہے۔ بلاشبہ مدارس، طبیہ کالجز اور بعض غیر سرکاری تعلیمی اداروں نے اردو کو عملی سطح پر زندہ رکھنے میں قابلِ قدر کردار ادا کیا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ یہ بھی تسلیم کرنا ضروری ہے کہ قومی کونسل نے بھی مختلف تعلیمی پروگراموں، کتابوں کی اشاعت، اور سیمینار و کانفرنسوں کے ذریعے اردو کے فروغ میں ایک مستقل اور منظم کردار ادا کیا ہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ کونسل کی سرگرمیوں سے جامعات کے اساتذہ اور محققین کو زیادہ علمی مواقع میسر آئے ہیں تو یہ بات کسی حد تک درست محسوس ہوتی ہے۔ سیمیناروں، علمی پینلز اور تحقیقی پروگراموں کے ذریعے علمی مکالمے کو فروغ ملا ہے، جس نے اردو تحقیق کے دائرے کو وسعت دینے میں مدد دی۔ البتہ اس امر کی گنجائش ضرور ہے کہ جامعات اور اساتذہ مزید فعال کردار ادا کریں اور ادارے کی بہتری کے لیے باضابطہ تجاویز، خطوط اور عملی رہنمائی فراہم کریں، تاکہ یہ اشتراک زیادہ مؤثر اور نتیجہ خیز بن سکے۔
سن 2021 کے بعد سے کونسل میں مکمل کمیٹی کی عدم تشکیل ایک انتظامی چیلنج کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اگرچہ سابقہ اور موجودہ ڈائریکٹر کی مسلسل کوششوں سے بعض عبوری انتظامات کیے گئے تاکہ ادارہ اپنی بنیادی سرگرمیاں جاری رکھ سکے، مگر یہ حقیقت بھی ہے کہ کسی بھی قومی ادارے کی مؤثر کارکردگی کے لیے فنانس کمیٹی اور وائس چیئرمین جیسے اہم عہدوں کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ ان عہدوں کی عدم موجودگی میں کئی فیصلے رسمی نوعیت تک محدود رہ جاتے ہیں، حالانکہ ڈائریکٹر کی سطح پر اصلاحی اقدامات کی خواہش اور کوششیں واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہیں۔
یہ بھی ایک قابلِ توجہ پہلو ہے کہ اردو داں طبقہ اکثر ادارے سے فائدہ تو حاصل کرتا ہے، مگر اس کی پالیسی سازی اور اصلاح کے عمل میں بھرپور شرکت کم دکھائی دیتی ہے۔ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ جامعات، تحقیقی اداروں اور مختلف علمی شخصیات نے کونسل کے پروگراموں سے خاطر خواہ علمی استفادہ کیا ہے، لیکن ادارے کی مضبوطی اور شفافیت کے لیے اجتماعی سطح پر سنجیدہ اور بامقصد مکالمے کی ضرورت ہے۔ محض تنقیدی تبصروں یا غیر رسمی گفتگو کے بجائے تعمیری مشاورت، باضابطہ تجاویز اور مثبت تعاون کے ذریعے ہی ادارے کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
مزید برآں، یہ بھی ضروری ہے کہ اردو کے اساتذہ، محققین اور ادبی تنظیمیں کونسل کے ساتھ شراکتی کردار ادا کریں اور اپنی علمی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے اصلاحی اقدامات میں عملی دلچسپی لیں۔ اس طرح نہ صرف ادارے کی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے بلکہ اردو زبان کے فروغ کے لیے ایک مضبوط اور مربوط قومی لائحۂ عمل بھی تشکیل پا سکتا ہے۔
*کونسل کا قیام اور مقاصد:*
نیشنل کونسل فار پرموشن اردو لینگویج کا قیام یکم اپریل 1996 کو اردو زبان کے فروغ کے ایک اہم قومی ادارے کے طور پر عمل میں آیا۔ اس کے بنیادی مقاصد میں اردو کی ترویج و اشاعت، جدید علوم کی اردو میں منتقلی، تعلیمی منصوبہ بندی، کتب و لغات کی اشاعت، ڈیجیٹل ترقی، اور ریاستی اداروں کے ساتھ اشتراک شامل ہیں۔ یہ مقاصد اردو کو ایک جدید، فعال اور ہمہ جہت زبان بنانے کی دوراندیش حکمتِ عملی کی عکاسی کرتے ہیں۔
*موجودہ صورتِ حال: تعمیری اور مثبت پہ• اردو ڈپلومہ کورسز، اساتذہ کی تربیت اور تعلیمی پروگراموں کے ذریعے ہزاروں طلبہ تک رسائی ایک قابلِ تحسین کامیابی ہے۔
• کتابوں، رسائل اور کتاب میلوں کے انعقاد نے اردو کے علمی سرمائے کے تحفظ اور فروغ میں مؤثر کردار ادا کیا
• آن لائن کورسز اور ای-لائبریری کا آغاز جدید تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگ ایک مثبت قدم ثابت ہوا ہے۔
• اردو یونیکوڈ اور ڈیجیٹل وسائل کی فراہمی نے زبان کی تکنیکی موجودگی کو مضبوط بنایا ہے۔
• لغت سازی، علمی کتب کی اشاعت اور جدید علوم کی منتقلی کے منصوبے اردو کو ایک جدید علمی زبان بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
*پالیسی سطح پر امکانات*
• منظم سرکاری ڈھانچہ پالیسیوں کے تسلسل اور استحکام کو یقینی بناتا ہے۔
• قومی تعلیمی و ثقافتی ترجیحات سے ہم آہنگی اردو کو مرکزی سطح پر مضبوط نمائندگی فراہم کرتی ہے۔
• دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال سے اردو کے فروغ کے منصوبوں کو مزید وسعت اور فعالیت دی جا سکتی ہے۔
*اشتراک اور ذمہ داری*
• ماہرینِ اردو، اساتذہ اور محققین کی شمولیت علمی معیار کو بلند کرنے میں معاون ہے۔
• ریاستی اردو اکادمیوں سے روابط اردو تعلیم کو نچلی سطح تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔
• ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے نئی نسل میں اردو سے دلچسپی پیدا کرنے کا مثبت رجحان فروغ پا رہا ہے۔
*کونسل کی نمایاں خدمات*
• باقاعدہ اردو کتاب میلوں کا انعقاد
• آن لائن لرننگ اور ای-لائبریری کی فراہمی
• علمی و ادبی کتب کی مسلسل اشاعت
• قومی سطح پر اردو زبان کی سرپرستی اور نمائندگی
مختصراً، کونسل نے اردو کے فروغ کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ تعلیمی توسیع، ڈیجیٹل ترقی اور علمی منصوبوں کے ذریعے یہ ادارہ اردو زبان کو قومی و عالمی سطح پر مستحکم بنانے میں مثبت اور مؤثر کردار ادا کر رہا ہے، اور مستقبل میں مزید وسعت و بہتری کی روشن گنجائش بھی موجود ہے۔
نیشنل کونسل فار پرموشن اردو لینگویج ایک اہم قومی ادارہ ہے، جس کا قیام اردو زبان کے فروغ کے لیے عمل میں لایا گیا تھا۔ مگر موجودہ صورتِ حال اس بات کی غماز ہے کہ ادارہ کسی حد تک اپنی اصل روح اور مقصد سے دور ہو گیا ہے۔ سست رفتار منصوبہ بندی، بیوروکریٹک غلبہ، محدود تعلیمی دائرہ اور ڈیجیٹل میدان میں کمزور کارکردگی اس کی موجودہ حالت کے اہم اسباب ہیں۔
تاہم اگر ادارہ سنجیدہ اصلاحات، واضح علمی وژن اور جدید تقاضوں کے مطابق حکمتِ عملی اختیار کرے تو یہ اردو زبان کے فروغ میں انقلابی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ہندوستان کی تہذیبی شناخت کا اہم ستون ہے، اور اس ستون کو مضبوط رکھنے کے لیے نیشنل کونسل کی مؤثر، غیر جانبدار اور علمی بنیادوں پر از سرِ نو تشکیل وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مزید یہ کہ کسی بھی مؤثر اصلاحی عمل کے لیے مکمل کمیٹی، خصوصاً فنانس کمیٹی اور وائس چیئرمین کی تقرری ناگزیر ہے؛ کیونکہ فنانس کمیٹی کے بغیر ڈائرکٹر عملی طور پر بڑے فیصلے نافذ نہیں کر سکتا، جبکہ ہر اہم منصوبے کے لیے مالی منظوری اور ادارہ جاتی منظوری کا ہونا بنیادی شرط ہے۔
(یہ تجزیہ نگار کے ذاتی خیالات ہیں)







