سیاسی گلیاروں میں ان دنوں ایک خبر کو لے کر کافی ہلچل ہے ـ اور اس سے دور رس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ بہار اسمبلی انتخابات میں کراری شکست کھانے اور جن سوراج پارٹی کے تقریباً تمام امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہو جانے کے بعد، معروف انتخابی حکمتِ عملی ساز پرشانت کشور نے کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا کے ساتھ خفیہ ملاقات کی ہے ـاگرچہ اس کے بیک گراؤنڈ کا پتہ نہیں چل سکا لیکن یہ اپنے آپ میں کافی اہم ہے
میڈیا ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ملاقات کم و بیش دو گھنٹے تک جاری رہی، تاہم فریقین نے اس ملاقات کی کوئی تفصیل نہیں بتائی ، اس ملاقات کے وقت اور پس منظر نے کئی اہم سوالات کو جنم دے دیا ہے۔اور چہ مہ گوئیاں ہورہی ہیں لوک سبھا میں کی گئی تقریر کے پرینکا کافی سرخیوں میں ہیں
نوٹ کرنے کی بات یہ ہے کہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب بہار انتخابات میں پی کے کی کارکردگی بہت مایوس کن رہی۔وہیں کانگریس کی حالت بھی کچھ خاص بہتر نہیں ،وہ صرف 6 نشستیں ہی حاصل کر سکی
واضح رہے کہ پی کے اور گاندھی فیملی کے تعلقات کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ سال 2021 میں جے ڈی یو سے علیحدگی کے بعد، پی کے کانگریس کا حصہ بننا چاہتے تھے نے کانگریس کو دوبارہ مضبوط بنانے کے لیے انہوں نے ہائی کمان کے سامنے ایک بلو پرنٹ پیش کیا تھا۔ان کی اپریل 2022 میں سونیا کے گھر پر ہوئی میٹنگ میں راہل اور پرینکا بھی موجود تھے۔ اس وقت وہ دل سے کانگریس میں شامل ہونے کے لیے تیار تھے، تاہم ہائی کمان نے انہیں ایک ’ایمپاورڈ ایکشن گروپ‘ کا حصہ بننے کی پیشکش کی جو پی کے کو قبول نہیں تھی اور بات وہیں پر ختم ہوگئی ـ ہی کے کے کہنا تھا کہ کانگریس کو کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ قیادت میں تبدیلی اور تنظیمی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ اس اختلاف کے بعد دونوں کے راستے جدا ہو گئے اور وقت کے ساتھ پرشانت کشور کانگریس کے کھلے ناقد بن گئے۔
انڈین ایکسپریس Indian express کی رپورٹ کے مطابق، اس ملاقات میں بہار کی موجودہ سیاسی صورتحال، اپوزیشن کی مجموعی حکمتِ عملی اور مستقبل کے ممکنہ سیاسی راستوں پر گفتگو ہوئی۔ تاہم، اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا یہ بات چیت کسی باضابطہ سیاسی تعاون یا اتحاد کی طرف بڑھنے کے لیے تھی یا نہیں۔ دونوں کی جانب سے یہی کہا جا رہا ہے کہ یہ محض ایک خیرسگالی ملاقا تھی۔ لیکن ہندوستانی سیاست میں اکثر ایسی ملاقاتیں مستقبل کے بڑے سیاسی فیصلوں کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہیں۔بہار میں بدترین انتخابی ناکامی کے بعد پرینکا گاندھی سے ملاقات اس بات کی طرف اشارہ ضرور کرتی ہے کہ پرشانت کشور اپنے سیاسی مستقبل اور ممکنہ متبادل راستوں پر ازسرِنو غور کر رہے ہیں۔
فی الحال، کانگریس اور پرشانت کشور دونوں کیمپوں کا دعویٰ ہے کہ یہ محض ایک غیر رسمی ملاقات تھی۔ تاہم، سیاست میں، اتفاقات اشاروں سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ بہار میں تباہ کن ناکامی کے بعد پرشانت کشور کی پرینکا گاندھی سے ملاقات یقینی طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ اپنے سیاسی آپشنز پر دوبارہ غور کر رہے ہیں۔اب بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ ملاقات محض بات چیت تک ہی محدود رہے گی یا مستقبل میں کانگریس اور پرشانت کشور کے تعلقات میں ایک نیا موڑ آئے گا۔ فی الحال سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں عروج پر ہیں، اور سب کی نظریں اگلے اقدام پر ہیں۔
چلتے چلتے:دریں اثنا جب پارلیمنٹ میں صحافیوں نے پرینکا گاندھی سے پی کے سے ملاقات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ کیا یہ خبر ہے؟ ملک میں بہت سارے مسائل ہیں، ہم فضائی آلودگی پر بحث کا مطالبہ کر رہے ہیں، اور آپ ایسے سوالات پوچھ رہے ہیں۔








