نفرت کے خلاف بات کرنے والے محمد دیپک کو اب اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے سوشل میڈیا پر “آواز” اٹھانے سے روک دیا ہے۔ دیپک نے اپنے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ عدالت نے اسے راحت دینے کے بجائے اس کی سرزنش کی اور درحقیقت ان کے خلاف ایک طرح سے “گیگ آرڈر “پاس کردیا -وہ بھی اس کام کے لئے کہ انہوں نے ایک بزرگ مسلمان دکاندار کو دھمکا رہے لوگوں سے بچایا تھا جو بجرنگ دل کے رکن تھے۔
یہ واقعہ 26 جنوری کو کوٹ دوار میں پیش آیا۔ بجرنگ دل کے کچھ ممبران مبینہ طور پر ایک مسلمان دکاندار وکیل احمد کو ان کی دکان کے نام سے لفظ "بابا” ہٹانے کی دھمکی دے رہے تھے۔ دیپک کمار نے دکاندار کا ساتھ دیا۔ جب ان میں سے ایک نے ان کا نام پوچھا تو دیپک نے اپنی شناخت "محمد دیپک” کے طور پر کی اور بجرنگ دل کے اراکین کا سامنا کیا۔ یہ ویڈیو وائرل ہو گیا، جس نے دیپک کو سوشل میڈیا پر کافی حمایت حاصل کی۔ تاہم، بعد میں اس کے خلاف بھی شکایت درج کرائی گئی، اور ایف آئی آر درج کی گئی۔
***محمد دیپک پر الزامات ؟
ایف آئی آر میں دیپک پر فساد بھڑکانے، چوٹ پہنچانے اور امن کو خراب کرنے کی کوشش کا الزام لگایا گیا ہے۔ دیپک نے ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کے لیے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی۔ اس واقعے کے بعد دیپک کی مشکلات میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
اب اتراکھنڈ ہائی کورٹ سے بھی مایوسی ہوئی ہے۔ عدالت نے جم کے مالک محمد دیپک کے خلاف درج ایف آئی آر کو خارج کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بجائے، عدالت نے انہیں کیس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر تبصرہ کرنے یا ویڈیو پوسٹ کرنے سے روک دیا۔ یہ فیصلہ جمعہ کو آیا، جب جسٹس راکیش تھپلیال کی سنگل بنچ نے کیس کی سماعت کی۔
**عدالت کی سوشل میڈیا پوسٹس پر پابندی کیوں؟
بار اینڈ بنچ کی رپورٹ کے مطابق، عدالت نے دیپک کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات جاری ہیں اور سوشل میڈیا پر تبصرہ کرنے سے تحقیقات کو خطرہ ہو گا۔ جسٹس تھپلیال نے کہا، "آپ کو تحقیقات میں تعاون کرنا چاہیے اور سوشل میڈیا پر غیر ضروری تبصرے کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ آپ اس ملک کے شہری ہیں، آپ کو قانون کی پاسداری کرنی چاہیے۔ یقین رکھیں کہ تحقیقات غیر جانبدارانہ اور شفاف طریقے سے کی جائیں گی۔”
عدالت نے ریاستی پولیس کے اس دعوے کو نوٹ کیا کہ دیپک تحقیقات میں تعاون نہیں کر رہا تھا بلکہ سوشل میڈیا پر مصروف تھا۔ عدالت نے واضح طور پر کہا، "سوشل میڈیا پر پیغامات یا ویڈیوز بھیجنے سے تحقیقات خطرے میں پڑ جائیں گی، ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔”


