یوپی کے سدھارتھ نگر ضلع میں واقع پھگو شاہ کے 105 سال پرانے مزار پر بلڈوزر کی کارروائی کی گئی ہے۔ منگل کی صبح انتظامیہ اور پولیس کی ٹیم نے اس مزار کو بلڈوزر سے مسمار کر دیا۔ اس دوران اے ڈی ایم گورو شریواستو، اے ایس پی پرشانت کمار اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود تھی۔
درحقیقت سرکار کا دعویٰ ہے کہ سوال سے زائد قدیم اس مزار کو (تقریباً 105 سال قبل) چرائی یعنی چراگاہ کی زمین پر تعمیر کیا گیا تھا۔ یہاں ہر جمعرات کو میلہ لگتا تھا۔ ہندو اور مسلمان دونوں مذاہب کے لوگ یہاں اپنی امیدوں اور خواہشات کے مطابق چادر چڑھانے آ یا کرتے۔ ‘آج تک’ کے مطابق 26 جون کو ڈومریا گنج کے سابق بی جے پی ایم ایل اے نے اس مزار پر آگاہی کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ ہنومان چالیسہ پڑھنا چاہیے۔ جس کے بعد انتظامیہ نے مزار پر لگنے والے میلے پر پابندی لگا دی۔ اس کے ساتھ وہاں چادر وغیرہ چڑھانے پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ ناجائز تجاوزات ہٹانے کا حکم جاری کیا گیا لیکن تجاوزات نہیں ہٹائی گئیں۔اس کے بعد آج صبح تقریباً 5 بجے کئی تھانوں کے پولیس اور انتظامیہ کے اہلکار کئی بلڈوزر لے کر پہنچے اور انہدام کا عمل شروع کیا۔ اس دوران پولیس تقریباً 1 کلو میٹر دور سے مزار کی طرف جانے والی سڑکوں پر کھڑی تھی اور لوگوں کو روک رہی تھی۔
اس معاملے میں ڈی ایم سدھارتھ نگر ڈاکٹر راجہ گنپتی آر نے بتایا کہ یہ ڈومریا گنج تھانہ علاقہ کے چوکھرا گاؤں کا معاملہ ہے، جہاں 105 سال پرانا مقبرہ تھا۔ یہ چراگاہ کی زمین پر واقع ہے۔ اس بارے میں پہلے بھی جھگڑا ہوا تھا۔ اس تنازعہ کو حل کرنے کے لیے دفعہ 144 کے تحت کارروائی کی گئی۔ چونکہ یہ چراگاہ کی زمین تھی، اس لیے تحصیلدار کی جانب سے دفعہ 67 کے تحت کارروائی کی گئی۔آج تک کے ان پٹ کے ساتھ
–








