سنبھل میں 24 نومبر کو تشدد ہوا تھا۔ اس کے بعد پولیس کا رویہ سخت ہو گیا ہے ـ مبینہ شرپسندوں کو پکڑنے کے لیے سرچ آپریشن چلا یاجارہاہے۔ اس سلسلے میں تیزی سے چھاپے بھی مارے گئے۔ اہم بات یہ ہے کہ پولیس کی یہ کارروائی ایس پی کے ایم پی ضیاء الرحمان برق کے گھر کے اطراف کے علاقوں میں کی گئی۔ اس کے علاوہ انتظامیہ غیر قانونی تعمیرات پر بلڈوزر چلا رہی ہے۔
••پولیس کا سرچ آپریشن ۔
ایس پی، ایس ایس پی بھی اس مہم میں شامل ہیں اور وہ پولیس ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ آر اے ایف، آر آر ایف اور پی اے سی کے اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔ اس سے قبل منگل کو پولیس نے آپریشن کے دوران ایک بڑی کامیابی حاصل کی تھی۔ پولیس نے غیر قانونی پستول اور کارتوس بھی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے خود سنبھل میں سخت آپریشن کی ہدایات دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایس پی رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمان برق کے گھر کے اردگرد سرچ آپریشن کے دوران پولیس نے 2 ہسٹری شیٹرز کو گرفتار کر نے کے ساتھ13 گھروں پر چھاپے مارے۔پولیس سرچ آپریشن کے دوران ڈرون کا بھی استعمال کر رہی ہے۔ جہاں بھی چھاپہ مارا جا رہا ہے، ڈرون اس علاقے میں اور ارد گرد پرواز کرتے دیکھے ہیں۔ پولیس کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ دریں اثنا سنبھل شہر میں تجاوزات ہٹاؤ مہم کے تحت ڈپٹی کلکٹر کی قیادت میں مہم چلائی گئی۔ جس میں فٹ پاتھ پر غیر قانونی طور پر بنائی گئی عارضی دکانوں کو مسمار کر دیا گیا۔ ایس پی ایم پی کا گھر ان علاقوں سے محض چند میٹر کے فاصلے پر ہے جہاں یہ کارروائی کی گئی ہے۔ سنبھل میں بدھ کی صبح میونسپل ٹیم پولیس اہلکاروں کے ساتھ بلڈوزر لے کر سیتا روڈ پہنچی۔ یہاں ٹیم کا دکانداروں سے جھگڑا بھی ہوا۔ حالانکہ انتظامیہ نے بلڈوزر کی کارروائی مکمل کی۔








