سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن کے مطابق ہفتے کے روز اسرائیل نے دمشق کے قریب فوجی تنصیبات پر 35 حملے کیے۔ شام میں طویل عرصے تک حکومت کرنے والے بشار الاسد کی معزولی کے بعد سے شام میں فضائی حملوں میں شامی فوج کے ٹھکانوں کو نشاہ بنایا گیا ہے۔
مقامی ذرائع نے ہفتے کی شام کو بتایا کہ "جنگی طیاروں نے تل منین کے علاقے میں ریپبلکن گارڈ فورسز اور فورتھ ڈویژن کے ٹھکانوں پر حملہ کیا۔ اس نے دارالحکومت دمشق کے شمال میں واقع قصبے حفیر میں بھی ایک فضائی دفاعی مرکز پر بمباری کی۔ درعا کے مشرقی دیہی علاقوں میں محجہ شہر اور حمص کے مشرقی دیہی علاقوں میں 18ویں ڈویژن کے گوداموں پر بمباری کی۔
سیریئن آبزرویٹری نے جرمن نیوز ایجنسی کے حوالے سے بتایا کہ فضائی بمباری کی تازہ ترین لہر نے دمشق کے دیہی علاقوں میں سابق حکومت کی فوج کے کیمپوں کو نشانہ بنایا۔
برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری کے مطابق نشانہ بنائے گئے کیمپوں میں پہاڑی سرنگیں شامل ہیں جن میں میزائل اور گولہ بارود کے ڈپو ہیں۔
اسرائیلی جنگی طیارے شام کی فضائی حدود پر پرواز کرتے رہتے ہیں، فوجی مقامات، تحقیقی مراکز اور انتظامی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں۔سیریئن آبزرویٹری کے مطابق 8 دسمبر کو اسد کی معزولی کے بعد سے اسرائیل نے شام پر 430 فضائی حملے کیے، جس میں شام کے تمام ہوائی اڈوں اور شامی علاقے میں درجنوں فوجی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔اایک اور خبر کے مطابق سرائیل نے چند گھنٹے میں شام پر 60 کے قریب حملے کیے ہیں۔شامی مبصرین کے مطابق اسرائیل نے شام کے فوجی ٹھکانوں پر 61 میزائل داغے۔قنیطرہ شہر میں پیش قدمی پر عرب لیگ نے شام میں اسرائیلی دراندازی کی مذمت کی ہے۔شام کے ساحلی شہر لاذقیہ میں گھات لگا کر حملہ کیا گیا، جس میں شامی باغی فورسز کے 15 جنگجو جاں بحق ہوگئے۔علاوہ ازیں اڈوں سے فوجی سازو سامان کی منتقلی کی اطلاعات ہیں۔ شامی ذرائع کے مطابق روس شمالی شام میں فرنٹ لائن سے فوج پیچھے ہٹا رہا ہے، اپنے فوجی اڈے خالی نہیں کر








