تجزیہ:ابھجات شیکھر آزاد
واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے سب سے پیارا لفظ ڈیل ہے۔ خاص طور پر جب بات چین اور روس کی ہو تو امریکی صدر زیادہ کھل کر سامنے آتے ہیں۔ چین اور روس سے ڈیل کر کے ٹرمپ امریکہ میں یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ ان لیڈروں سے نمٹ سکتے ہیں جنہیں مذاکرات کی میز پر لانا سب سے مشکل ہے۔
نیویارک ٹائمز Newyork times میں شائع رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ روس کے ساتھ تجارت کو معمول پر لانا چاہتے ہیں۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ یوکرین کے ساتھ جنگ کے حل کے لیے ماسکو پر دباؤ کم کرنے کی پیشکش کر رہےہوں۔ اس کے ساتھ وہ چینی رہنما کو فون کرنے پر زور دے کر اپنی عالمی تجارتی جنگ کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ٹائم میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ہے کہ "ہم سب ڈیل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن میں ایک بہت بڑا اسٹور ہوں، یہ ایک بہت بڑا، خوبصورت اسٹور ہے اور ہر کوئی یہاں خریداری کرنا چاہتا ہے۔”
نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے ذہن میں روس اور چین کے حوالے سے کچھ بڑا ہو سکتا ہے۔ یہ بہت بڑی بات ہوگی۔ لیکن خارجہ پالیسی کے بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کے اقدامات اور بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسی دنیا کا تصور کر رہے ہیں جس میں تین بڑی طاقتیں ہیں۔ امریکہ، چین اور روس۔ یعنی ٹرمپ نے زمین کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے جس میں طاقت کے مراکز امریکہ، چین اور روس ہیں۔ یہ 19ویں صدی کے سامراجی طرز حکمرانی جیسا ہوگا۔ ٹرمپ نے ڈنمارک سے گرین لینڈ لینے اور کینیڈا کو امریکہ کے ساتھ ضم کرنے کی بات کی ہے۔ انہوں نے پانامہ کینال کو دوبارہ امریکی کنٹرول میں لانے کے اپنے منصوبے کا اعلان بھی کیا ہے۔ یہ سوچ 19ویں صدی کی سامراجی حکمت عملیوں کی طرح ہے، جب یورپی طاقتوں نے افریقہ اور ایشیا کو ‘اثرات کے نیزے’ کے تحت تقسیم کیا۔
•••ٹرمپ دنیاسے کیسے ڈیل کر رہے ہیں؟
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اتحادیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دنیا بھر سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہے روس اور چین کو فائدہ پہنچے گا جو برسوں سے یورپ اور ایشیا میں امریکی سلامتی کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ ٹرمپ اکثر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور چینی رہنما شی جن پنگ کو مضبوط اور ذہین افراد کے طور پر بیان کرتے ہیں اور انہیں اپنے قریبی دوست کہتے ہیں۔ وہ یوکرین کی نایاب معدنی دولت لینا چاہتا ہے، یوکرین کی تقسیم کی حمایت کر رہا ہے، اور نیٹو پر تنقید کر رہا ہے۔ ٹرمپ اور پوتن نے گزشتہ ہفتے دو گھنٹے تک فون پر یوکرین کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ "گفتگو کا لہجہ اور جذبہ اچھا تھا۔”
•••ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا کھیل
اسی وقت، کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس میں امریکی خارجہ پالیسی کے ایک مورخ اسٹیفن ورتھیم نے کہا کہ "بہترین ثبوت امریکہ کی مغربی نصف کرہ میں اپنے دائرہ اثر کو بڑھانے کی خواہش ہے۔” تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے کئی سابق عہدیداروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی فوری اور موضوعی ہے اور کوئی عالمی حکمت عملی نہیں بنائی جاتی۔ پھر بھی حالات بتاتے ہیں کہ ٹرمپ اور ان کے کچھ ساتھیوں نے دنیا کو سامراجی نقطہ نظر سے دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ لیکن سامراجی دور کے بعد اثر و رسوخ کا دائرہ قائم کرنا ایک سپر پاور کے لیے بھی آسان نہیں ہے۔ ٹرمپ نے تائیوان کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے۔ چینی تجزیہ کار یون سن کا کہنا ہے کہ "بیجنگ اثر و رسوخ کے شعبوں کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ بڑا معاہدہ چاہتا ہے اور پہلا ہدف تائیوان ہوگا۔”
اس لیے یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا ٹرمپ آگے بڑھ کر تائیوان کے حوالے سے کوئی معاہدہ کریں گے؟ٹرمپ کی یہ سوچ نہ صرف یورپ اور ایشیا میں امریکی خارجہ پالیسی کو غیر مستحکم کر سکتی ہے بلکہ چین اور روس کو بھی نئی ہمت دے سکتی ہے۔ ٹرمپ کا یہ نظریہ آنے والے مہینوں میں بین الاقوامی سطح پر بھونچال لا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اب امریکی میڈیا میں کہا جا رہا ہے کہ ٹرمپ بھارت کے ساتھ جس طرح کا برتاؤ کر رہے ہیں وہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کے لیے مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ پچھلی بائیڈن انتظامیہ ہندوستان کو انڈو پیسیفک میں ایک اہم پارٹنر کے طور پر دیکھتی تھی لیکن ٹرمپ کی موجودگی پالیسیاں اس کے خلاف ہیں جس کی وجہ سے امریکی ماہرین نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ امریکہ ایشیا میں اپنا مضبوط پارٹنر کھو سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ آنے والے وقت میں امریکہ کو اس نقصان کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔بشکریہ نوبھارت ٹائمس








