ایم آئی ایم کے صدر اسدالدین اویسی نے اقلیتی امور کے مرکزی وزیر کیرن ریجیجو کے اس بیان پر بھی شدید ردعمل ظاہر کیا جس میں انہوں نے کہا کہ ’’بھارت میں اقلیتوں کو اکثریتی کمیونٹی کے مقابلے میں زیادہ سہولتیں دی جاتی ہیں‘‘۔
اویسی نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا:’’ریجیجو صاحب! آپ کسی سلطنت کے بادشاہ نہیں بلکہ جمہوریت ہند کے وزیر ہیں۔ آپ کا عہدہ آئینی ہے، تخت نہیں۔ اقلیتوں کے حقوق خیرات نہیں، بنیادی حقوق ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا:‘‘کیا ہر روز پاکستانی، بنگلہ دیشی، جہادی، روہنگیا کہلانا ’سہولت‘ ہے؟ کیا لنچنگ ’تحفظ‘ ہے؟ کیا بھارتی شہریوں کو اغوا کر کے بنگلہ دیش میں دھکیلنا ’تحفظ‘ ہے؟‘‘اویسی نے مرکزی حکومت کی جانب سے مسلم طلباء کے لیے اسکالرشپس بند کیے جانے پر بھی سخت تنقید کی۔
’’آپ نے مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ بند کر دی، پری میٹرک اسکالرشپ کو فنڈ سے محروم کیا، پوسٹ میٹرک اور میرٹ کم مینز اسکالرشپ کو محدود کر دیا ، صرف اس لیے کہ ان سے مسلم طلباء مستفید ہوتے تھے’’۔








