اپوزیشن پارٹیوں نے بہار اسمبلی انتخابات سے قبل ووٹر لسٹ کے خصوصی نظر ثانی (SIR) کے خلاف سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے۔ جمعرات کو عدالت میں اس معاملے کی سماعت ہو رہی ہے۔
جسٹس سدھانشو دھولیا اور جسٹس جویمالیہ باغچی کی بنچ اس کی سماعت کر رہی ہے۔ عرضی گزار کی طرف سے سینئر وکیل گوپال شنکر نارائن نے کہا کہ ہم ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی کو چیلنج کر رہے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ہم تمام درخواستوں پر نہیں جائیں گے۔ سابق اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال الیکشن کمیشن کی وکالت کر رہے ہیں۔
درخواست گزار کی طرف سے پیش ہوئے ایڈوکیٹ گوپال شنکر نارائن نے کہا کہ یہ خصوصی نظرثانی مہم قواعد کو نظرانداز کرتے ہوئے چلائی جا رہی ہے۔ یہ امتیازی سلوک ہے۔ یہ قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیا جا رہا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ یکم جنوری 2003 کے بعد ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے والوں کو اب دستاویزات فراہم کرنا ہوں گی۔ یہ امتیازی سلوک ہے۔عدالت نے درخواست گزاروں سے کہا کہ پہلے ثابت کریں کہ الیکشن کمیشن جو کر رہا ہے وہ ٹھیک نہیں۔ گوپال شنکر نارائن نے کہا کہ ان کے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے 11 دستاویزات کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یہ مکمل طور پر متعصبانہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن شہریوں کی عمریں یکم جولائی 2025 کو 18 سال ہو جائیں وہ ووٹر لسٹ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ خلاصہ یعنی ووٹر لسٹ کا جائزہ ہر سال باقاعدگی سے کیا جاتا ہے۔ اس بار ایسا کیا گیا ہے۔ اس لیے اب ایسا کرنے کی ضرورت نہیں ںانہوں نے کہا کہ یہ مشق چار پیمانوں پر غلط ہے۔ یہ مشق قوانین کے خلاف ہے۔ یہ امتیازی، یک طرفہ اور من مانی ہے۔ دوسری بات یہ کہ قانونی دفعات کی غلط تشریح کی گئی ہے۔
اس پر جسٹس دھولیا نے کہا کہ آپ کا یہ کہنا کہ یہ خیالی ہے درست نہیں۔ ان کی اپنی منطق ہے۔ جسٹس دھولیا نے درخواست گزار سے کہا کہ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ الیکشن کمیشن جو کر رہا ہے وہ نہیں کر سکتا۔ ان کے اپنے دلائل ہیں۔ الیکشن کمیشن نے تاریخ طے کر دی۔ آپ کو اس میں کیا اعتراض ہے؟ آپ دلائل سے ثابت کریں کہ کمیشن صحیح کام نہیں کر رہا۔
درخواست گزاروں کے دلائل پر عدالت نے کیا کہا؟
درخواست گزار کے وکیل گوپال شنکر نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایس آئی آر کو پورے ملک میں نافذ کرنا چاہتا ہے اور اس کی شروعات بہار سے کی جارہی ہے۔ اس پر جسٹس ڈھولیا نے کہا کہ الیکشن کمیشن وہی کر رہا ہے جو آئین میں دیا گیا ہے۔ تو آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کچھ کر رہے ہیں جو انہیں نہیں کرنا چاہیے؟
گوپال شنکر نارائنن نے کہا کہ الیکشن کمیشن وہ کر رہا ہے جو اسے نہیں کرنا چاہیے۔ یہاں کئی سطحوں پر خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ یہ مکمل طور پر من مانی اور امتیازی سلوک ہے۔ میں آپ کو دکھاؤں گا کہ انہوں نے کس قسم کے تحفظات فراہم کیے ہیں۔ رہنما خطوط میں کچھ کلاز کا ذکر کیا گیا ہے جنہیں اس نظرثانی کے عمل کے دائرے میں نہیں لایا گیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس پورے عمل کی قانون میں کوئی بنیاد نہیں ہے۔
الیکشن کمیشن پر سپریم کورٹ کا تبصرہ سپریم کورٹ نے آدھار کارڈ کو شناختی کارڈ کے طور پر تسلیم نہ کرنے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر سوال اٹھایا ہے۔ کمیشن کے وکیل نے جواب دیا کہ شہریت صرف آدھار کارڈ سے ثابت نہیں ہوتی۔
اس پر عدالت نے کہا کہ اگر آپ صرف ملک کی شہریت ثابت کرنے کی بنیاد پر کسی شخص کا نام ووٹر لسٹ میں شامل کرتے ہیں تو یہ ایک بڑا امتحان ہوگا۔ یہ وزارت داخلہ کا کام ہے۔ آپ کو اس میں نہیں جانا چاہیے۔ اس کا اپنا عدالتی عمل ہے۔ پھر آپ کی ایکسرسائز کا جواز نہیں رہے
الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ آر پی ایکٹ میں بھی شہریت کا بندوبست ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر یہ کرنا ہے تو اتنی تاخیر کیوں؟ الیکشن سے پہلے ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
سنگھوی نے دلیل دی کہ ووٹر لسٹ سے کسی کو خارج کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ میں آکر کسی کے خلاف اپنے اعتراض کا ثبوت دوں گا۔ اس کے بعد الیکشن کمیشن سماعت کے لیے نوٹس جاری کرے گا۔ لیکن یہاں اجتماعی طور پر چار سے سات کروڑ لوگوں کو معطل کر دیا گیا ہے کہ اگر آپ فارم نہیں بھریں گے تو آپ باہر ہو جائیں گے۔ جب تک ہم اس بات کی تصدیق نہ کر لیں کہ آپ کو ووٹر لسٹ سے خارج کر دیا گیا ہے جس میں آپ پہلے سے شامل ہیں۔








