بہت ہی چھوٹے سے افریقی ملک برکینا فاسو کے صدر ابراہیم ٹریری یا تراورے کے میڈیا کی سرخیوں میں آنے کے بعد سے ان کے ملک برکینا فاسو کے بارے میں جاننے کی دلچسپی لوگوں میں بڑھ گئی ہے ،اس کے مد نظر مختصر تعارف قارئین کی خدمت میں پیش ہے
● مقام اور رقبہ
برکینا فاسو مغربی افریقہ میں واقع ایک زمینی گھرا ہوا (landlocked) ملک ہے۔ اس کے ارد گرد چھ ممالک ہیں: مالی، نائجر، بینن، ٹوگو، گھانا، اور آئیوری کوسٹ۔ماضی میں میں اسے جمہوریہ اپر وولٹا کہا جاتا تھا اور 4 اگست 1984ء کو اس کا نام بدل کر برکینا فاسو رکھا گیا۔ یہ فیصلہ اس وقت کے صدر تھامس سنکارا نے کیا۔ برکینا فاسو کے شہریوں کو برکینا بے (/bərˈkiːnəbeɪ/ bər-KEE-nə-bay) کہا جاتا ہے
رقبہ: تقریباً 2,74,200 مربع کلومیٹر
دارالحکومت: اوگاڈوگو (Ouagadougou)
زبان: سرکاری زبان فرانسیسی ہے، لیکن مقامی زبانیں (موورے، دیولا، فولانی) بھی عام ہیں۔
آب و ہوا: سہارا کے قریب ہونے کی وجہ سے زیادہ تر علاقہ خشک اور نیم صحرائی ہے۔
● آبادی :کل آبادی: تقریباً 2 کروڑ 30 لاکھ (23 million) (2024 تخمینہ)
اکثریتی مذہب: اسلام (تقریباً 60%)، باقی عیسائیت اور مقامی روایتی مذاہب
قومیت: "برکینابی” (Burkinabè) کہلاتے ہیں
● قدرتی وسائل اور پیداوار
1. سونا (Gold):
برکینا فاسو کی سب سے بڑی برآمد سونا ہے۔یہ افریقہ کے سب سے بڑے سونا پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔معیشت کا بڑا انحصار اسی پر ہے۔
2. زرعی پیداوار:کپاس (Cotton): “White Gold” کہلاتی ہے یہاں مکئی، سورگم، مونگ پھلی، گوارتقریباً 80 فیصد آبادی زراعت پر انحصار کرتی ہے، مگر زراعت زیادہ تر روایتی اور غیر میکانکی ہے۔
3. دوسرے معدنیات:
زنک، مینگنیز، تانبا (copper)، فاسفیٹ وغیرہحالیہ سالوں میں ان کے لیے بیرونی سرمایہ کاری بڑھی ہے۔-
● معاشی مشکلات اور بربادی کی وجوہات :برکینا فاسو میں وسائل کی بہتات ہونے کے باوجود، یہ ملک دنیا کے غریب ترین اور پسماندہ ممالک میں شامل ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں:
1. سیاسی عدم استحکام:فوجی بغاوتیں عام رہی ہیں۔صرف 2022 میں دو بار حکومت بدلی۔
2. دہشت گردی اور شدت پسندی:شمالی اور مشرقی علاقوں میں القاعدہ اور داعش سے منسلک گروپ سرگرم ہیں۔ہزاروں لوگ ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔اسکول، اسپتال، مارکیٹیں بند ہو چکی ہیں۔
3. نوآبادیاتی ورنہ:فرانسیسی نوآبادیاتی نظام کا گہرا اثر رہا ہے۔وسائل کا بڑا حصہ بیرونی کمپنیاں نکالتی رہیں۔خودمختاری کے باوجود معاشی آزادی محدود رہی۔
4. تعلیم و صحت میں پسماندگی:شرح خواندگی 50 فیصد سے بھی کم ہصحت کی سہولیات ناکافی، دیہی علاقوں میں تقریباً ناپیدبچوں کی اموات اور غذائی قلت عام ہے۔
● امید کی کرن :اگرچہ برکینا فاسو بربادی، غربت اور بدامنی سے دوچار ہے، لیکن:نوجوان آبادی میں بیداری بڑھ رہی ہےنئے لیڈران (جیسے ابراہیم ٹریری) سامراجی اثرات سے نجات کا وعدہ کر رہے ہیںمقامی سطح پر سونے اور معدنیات کی قدر بڑھنے سے آمدنی میں بہتری ممکن ہے
برکینا فاسو قدرتی دولت سے مالا مال مگر سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کے لحاظ سے سخت مشکلات کا شکار ملک ہے۔ اگر قیادت مستحکم ہو، بدعنوانی کم ہو، اور مقامی عوام کو بااختیار بنایا جائے، تو یہ ملک افریقہ کے ترقی پذیر ممالک میں شامل ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے داخلی استحکام اور بین الاقوامی استحصال سے نجات ضروری ہے۔
—











