بہار کی طرح ووٹر لسٹ (SIR) کی خصوصی نظر ثانی جلد ہی پورے ملک میں شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس کا اشارہ الیکشن کمیشن کی تیاریوں سے ملتا ہے۔ بہار کے ماڈل پر مبنی اس عمل میں پرانی ووٹر لسٹوں کی چھان بین کی جا رہی ہے اور ہر ووٹر کی معلومات کی اچھی طرح جانچ کی جائے گی۔ ستیہ ہندی کی رپورٹ کے مطابق اس کی تیاریوں کے ایک حصے کے طور پر، مختلف ریاستوں کے چیف الیکٹورل آفیسرز (سی ای او) نے اپنی اپنی ویب سائٹس پر پرانی ووٹر لسٹیں شائع کرنا شروع کر دی ہیں۔ اس کا مقصد ووٹر لسٹوں کی درستگی اور اعتبار کو یقینی بنانا ہے، تاکہ آئندہ انتخابات میں کسی بھی قسم کی گڑبڑ سے بچا جا سکے۔ اس قدم کو الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری کا حصہ سمجھا جا رہا ہے جس کا تعلق ووٹر لسٹوں کے تقدس کو برقرار رکھنے سے ہے۔ ای ٹی نے اطلاع دی ہے کہ الیکشن کمیشن بہار کی طرز پر پورے ملک میں خصوصی نظر ثانی شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے اور یہ عمل اگست 2025 سے شروع ہوسکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن نے تمام ریاستوں کے چیف الیکٹورل افسران کو غیر رسمی طور پر ایس آئی آر کی تیاری شروع کرنے کی ہدایت دی **ووٹر لسٹ پر نظر ثانی sirکا عمل کیسا ہو گا؟
ایس آئی آر کا عمل بہار میں نافذ ماڈل جیسا ہی ہوگا۔
*”بوتھ لیول آفیسرز یعنی بی ایل او: ہر پولنگ اسٹیشن پر بوتھ لیول آفیسرز کا تقرر کیا جائے گا، جو گھر گھر جا کر ووٹروں کی معلومات کی تصدیق کریں گے۔ کئی ریاستوں نے ان افسران کی بھرتی اور تربیت شروع کر دی ہے۔
**گنتی کا فارم: ووٹرز کی معلومات کی تصدیق کے لیے پہلے سے پرنٹ شدہ فارم استعمال کیے جائیں گے۔ ان میں ووٹرز کو ان کی تاریخ پیدائش کی بنیاد پر تین زمروں میں تقسیم کیا جائے گا –1- 1987 سے پہلے پیدا ہوئے، 2- 1987 سے 2004 تک پیدا ہوئے اور3_ 2004 کے بعد پیدا ہوئے۔تصدیق کا عمل: ووٹروں کو دستاویزات دکھانا پڑسکتی ہیں۔ اس سے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ فہرست میں صرف درست اور اہل ووٹرز کے نام باقی رہیں اگرچہ SIR کا مقصد ووٹر لسٹوں کو صاف کرنا ہے، لیکن اس عمل کے بارے میں کچھ خدشات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔ بہار میں شروع ہونے والے اس عمل پر اپوزیشن لیڈروں اور کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ گھر گھر جا کر تصدیق کے دوران کچھ حقیقی ووٹروں کے نام غلطی سے ہٹا دیے جا سکتے ہیں، خاص کر وہ لوگ جو مہاجر مزدور ہیں یا جن کے پاس شہریت ثابت کرنے کے لیے دستاویزات نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ پرانی ووٹر لسٹوں کو بنیاد بنانا ان لوگوں کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے جن کے نام بعد میں شامل کیے گئے تھے۔۔








