تحریر:,عمران قریشی
یمن میں حکام نے انڈین نرس نمیشا پریا کی سزائے موت پر عملدرآمد مؤخر کر دیا ہے اور اِس اہم پیش رفت کے تناظر میں انڈیا کے ’مفتی اعظم‘ 94 سالہ کانتھاپورم ابوبکر مسلیار (جنھیں عرف عام میں شیخ ابوبکر احمد کے نام سے جانا جاتا ہے) کا خصوصی تذکرہ ہو رہا ہے۔نمیشا کو طلال عبدو مہدی نامی یمنی شہری کے قتل کا مجرم پایا گیا اور اسلامی قوانین کے تحت نمیشا کو سزائے موت سے بچانے کے لیے ضروری تھا کہ طلال مہدی کے اہلخانہ انھیں معاف کر دیں تاہم انھوں نے ایسا نہیں کیا تھا
سیو نمیشا پریا انٹرنیشنل ایکشن کونسل‘ نامی تنظیم اس انڈین نرس کو بچانے کی مہم چلا رہی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ کیرالہ کے ایک انتہائی قابل احترام اور بااثر مسلم مذہبی رہنما گرینڈ مفتی ابوبکر مسلیار نے نمیشا پریا کیس کے بارے میں ’یمن کے کچھ شیخوں‘ سے بات کی شیخ ابوبکر کی مداخلت کے بعد مقتول شخص کے خاندان کے ساتھ بات چیت کے عمل کو تیز کر دیا گیا۔
شیخ ابوبکر احمد کون ہیں؟
شیخ ابوبکر احمد کو غیر رسمی طور پر انڈیا کے ’گرینڈ مفتی‘ کا خطاب دیا جاتا ہے۔ سُنی تصوف اور تعلیم کے میدان میں اُن کی خدمات کو سراہا جاتا ہے تاہم خواتین سے متعلق اُن کے بیانات کی کئی بار مذمت کی جا چکی ہے۔کیرالہ یونیورسٹی میں اسلامی تاریخ کے پروفیسر اشرف کدکل نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وہ اپنے پیروکاروں کے لیے ایک مقدس شخصیت کی طرح ہیں۔ کچھ لوگ یہ بھی مانتے ہیں کہ ان میں جادوئی روحانی طاقتیں ہیں۔‘اُن کے مطابق ’شیخ احمد کا تعلق بریلوی فرقے سے ہے۔ ایک صوفی کانفرنس کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے اُن کی تحسین کی تھی لیکن خواتین سے متعلق ان کے متنازع بیانات پر بارہا تنقید بھی کی گئینے ثقافتی اور سیاسی تجزیہ کار شاہ جہاں مدپت سے پوچھا کہ شیخ احمد کتنی طاقتور شخصیت ہیں؟ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’انڈیا میں اگر کوئی چندر سوامی کا مقابلہ کر سکتا ہے، تو وہ یہ آدمی ہے۔ وہ سیاسی اور سماجی طور پر بہت مضبوط ہیں۔۔۔‘
شیخ ابوبکر کیسے معروف ہوئے؟کیا ہیں خدمات
شیخ ابوبکر اُس وقت اسلامی حلقوں میں مشہور ہوئے جب انھوں نے 1926 میں قائم ہونے والی سُنی تنظیم ’سمستا کیرالہ جمعیت العلما‘ سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے ایک نیا راستہ چنا۔ یہ سُنی تنظیم 1986 تک متحد رہی پھر اس کے رہنماؤں میں نظریاتی اختلاف ہو گئے۔
پروفیسر اشرف بتاتے ہیں کہ ’شیخ ابوبکر اُس بنیاد پرست سلفی تحریک کے خلاف تھے جس کا ماننا تھا کہ مسلمانوں کو انگریزی زبان نہیں سیکھنی چاہیے کیونکہ یہ ’جہنم کی زبان‘ ہے یا مقامی زبان ملیالم نہیں سیکھنی چاہیے کیونکہ یہ ’نیئر کمیونٹی کی زبان‘ ہے۔ بنیاد پرست سلفی تحریک خواتین کی تعلیم کے بھی خلاف تھی مگر ان سب باتوں کے خلاف شیخ ابوبکر نے سخت موقف اپنایا جس کے باعث نظریاتی اختلافات پیدا ہوئے۔‘
اس تنظیم سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد شیخ ابوبکر نے اپنے پیروکاروں کی جانب سے بیرون ملک سے ملنے والے عطیات کی مدد سے تعلیمی اداروں کی تعمیر پر توجہ دی۔
پروفیسر اشرف کہتے ہیں کہ ’کم از کم 40 فیصد سنی مسلمان شیخ ابوبکر کے ساتھ کھڑے تھے۔ روایتی طور پر سُنی تنظیم انڈین یونین مسلم لیگ (IUML) کے ساتھ تھی، جو یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کا حصہ تھی لیکن شیخ ابوبکر نے ’دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے‘ کی پالیسی اپنائی اور سی پی ایم کا ساتھ دیا۔‘پروفیسر اشرف کی طرح شاہجہاں مدپت بھی تعلیمی اداروں کی تعمیر میں شیخ ابوبکر کے کارناموں کا اعتراف کرتے ہیں۔شاہ جہاں کا کہنا ہے کہ ‘کیرالہ میں اُن کی بہت زیادہ پیروکار ہیں، خواتین اور بین الاسلامی تعاون کے حوالے سے اُن کے خیالات کافی بنیاد پرست ہیں۔‘
***خواتین سے متعلق متنازع بیان
سوشل ورکر ڈاکٹر خدیجہ ممتاز شیخ ابوبکر کے اُس بیان کی مذمت کرتے ہیں جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’مسلمانوں کے لیے ایک سے زیادہ بیویاں رکھنا ضروری ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’انھوں نے کہا کہ مردوں کو دوسری بیوی رکھنی چاہیے تاکہ مرد پہلی بیوی کی ماہواری کے دوران اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔ وہ خواتین کے بارے میں ایسے تشویشناک خیالات رکھتے ہیں۔ اس کے باعث ہمیں ان پر تنقید کرنا پڑی۔ ان کے اس نوعیت کے تبصروں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔‘ان تمام باتوں کے باوجود ڈاکٹر خدیجہ ممتاز کا کہنا ہے کہ ’ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ انھوں نے نمیشا پریا کے معاملے میں اپنے وسیع رابطوں کا استعمال کیا، یہ خیال کیے بغیر کہ وہ ایک غیر مسلم خاتون ہیں۔‘بشکریہ بی بی سی








