جگدیپ دھنکھڑ نے نائب صدر کے عہدے سے اچانک استعفیٰ دے کر سب کو حیران کر دیا ہے۔ صرف 12 روز قبل انہوں نے کہا تھا کہ وہ اگست 2027 میں ریٹائر ہو جائیں گے لیکن اب انہوں نے صحت کی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے استعفے کے پیچھے تین تھیوری ہیں جن پر سب سے زیادہ بحث کی جاتی ہے۔اپوزیشن جو اکثر جگدیپ دھنکھر پر تنقید کرتی تھی اور ان کے خلاف مواخذے کی تحریک بھی لاتی تھی، اس فیصلے سے حیران رہ گئی۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ معاملہ کچھ اور ہے، جو واضح طور پر نظر نہیں آ رہا۔
کوئی بیان، نہ مبارکباد۔بی جے پی بھی چپ
جگدیپ دھنکھڑ کے استعفیٰ کے بعد حکومت یا نائب صدر کے دفتر کی طرف سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔ اس سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیوں کا دور شروع ہو گیا۔ بی جے نہیں سمجھ پارہی کہ کیا جواب دے بیماری کی بات، لیکن ٹائمنگ پر سوال
یہ سچ ہے کہ جگدیپ دھنکھڑ کچھ عرصے سے بیمار تھے اور حال ہی میں دل سے متعلق مسائل کا علاج کرایا ہے۔ مانسون اجلاس کے پہلے دن ان کے استعفیٰ نے سب کو حیران کردیا۔ ایک اپوزیشن پارٹی کے لیڈر نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر انہیں استعفیٰ دینا تھا تو سیشن شروع ہونے سے پہلے ہی کر دینا چاہیے تھا۔پیر کو شام 4 بجے نائب صدر سکریٹریٹ کی طرف سے جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ وہ اس ہفتے جے پور جا رہے ہیں – جس سے راز مزید گہرا ہو گیا ہے۔
دھنکھڑ کے فیصلے کے پیچھے 3 تھیوری
1ـ بہار انتخابات کی راہ ہموار کی گئی ہے ؟بہار میں اس سال اسمبلی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اس الیکشن میں اپنی موجودگی کو بڑھانا چاہتی ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ چرچا ہے کہ جگدیپ دھنکھڑ کے استعفیٰ سے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو نائب صدر بنائے جانے کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔اس بار بی جے پی بہار میں زیادہ سیٹیں جیتنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایسے میں نتیش کو نائب صدر بنانا انہیں ساتھ رکھنے کی سیاسی حکمت عملی ہو سکتی ہے۔بی جے پی ایم ایل اے ہری بھوشن ٹھاکر نے بھی اس قیاس کو ہوا دیکہ ‘اگر نتیش کو نائب صدر بنایا تو یہ بہار کے لیے بہت اچھا ہوگا 2ـ ‘کیا توہین اصل وجہ ہے؟
ایک اور نظریہ یہ ہے کہ پیر کو مانسون اجلاس کے پہلے دن جو واقعات ہوئے وہ دھنکھڑ کے استعفیٰ کی وجہ ہو سکتے ہیں۔دھنکھر نے ایک نوٹس قبول کیا تھا جس میں 68 اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ نے جج یشونت ورما کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ اس وقت ہوا جب حکومت لوک سبھا میں ایک اہم تجویز لا رہی تھی۔ اس سے حکومت کو ‘کریڈٹ’ لینے کا موقع نہیں ملا۔اس کے بعد بی جے پی کے دو سینئر وزراء جے پی نڈا اور کرن رجیجو نے راجیہ سبھا کی بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) کی اہم میٹنگ میں شرکت نہیں کی۔ اس اجلاس کو پارلیمنٹ کا ایجنڈا طے کرنے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔جے پی نڈا نے کہا کہ دونوں وزرا پہلے ہی مصروف تھے اور انہوں نے دھنکھڑ کو مطلع کر دیا تھا۔ کانگریس نے بھی نڈا کے ایک تبصرہ کو ‘توہین’ قرار دیا۔ اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان نڈا کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا، ‘صرف میں جو کہوں گا وہی ریکارڈ پر آئے گا۔’نڈا نے کہا کہ یہ بات اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ کے بارے میں کہی تھی، نائب صدر کے بارے میں نہیں۔
3عدلیہ سے مسلسل محاذ آرائی بھی وجہ ہے؟
ایک اور نظریہ یہ ہے کہ حکومت عدلیہ کے خلاف دھنکھڑ کے مسلسل تیز بیانات سے بے چین تھی۔انہوں نے سپریم کورٹ کے نیشنل جوڈیشل اپوائنٹمنٹ کمیشن (این جے اے سی) ایکٹ کو منسوخ کرنے کے فیصلے کی مذمت کی تھی اور عدلیہ پر آئینی حدود کی خلاف ورزی کا الزام لگایا تھا۔
ان کے بیانات کو اکثر حکومت کا موقف سمجھا جاتا تھا جس کی وجہ سے حکومت تنقید کی زد میں آتی تھی۔تاہم، تھیوری کچھ بھی ہوں، یہ بھی ممکن ہے کہ جگدیپ دھنکھڑ کا استعفیٰ درحقیقت صحت کی وجوہات کی وجہ سے ہو۔








