مولانا عمیر الیاسی ، آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری ہوسابلے بھی موجود ہیں۔ اس سے قبل 2022 میں ملاقات ہوئی تھی ، مسجد اور مدرسے کا کا دورہ کیاتھا ـ
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت جمعرات کو دہلی کے ہریانہ بھون میں ‘مسلم مذہبی رہنماؤں’ کے ساتھ میٹنگ کر رہے ہیں۔ اس میں آر ایس ایس کی اعلیٰ قیادت 70 سے زائد مسلم مذہبی دھرم گرو، دانشوروں، مولاناوں اور علماء سے ملاقات کی ہے ابھی اس کی تفصیلات نہیں آئی ہیں
آل انڈیا امام آرگنائزیشن کے سربراہ عمر احمد اور آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسابلے، شریک جنرل سکریٹری کرشنا گوپال، رام لال، اندریش کمار اور آر ایس ایس کے دیگر عہدیداروں نے اس میٹنگ میں شرکت کی۔
درحقیقت، آر ایس ایس اپنی الحاق شدہ تنظیم مسلم راشٹریہ منچ (ایم آر ایم) کے ذریعے مسلم علما، مذہبی رہنماؤں اور کمیونٹی کے سرکردہ لوگوں سے بات چیت کرتی ہے۔ 2023 میں، MRM نے کہا تھا کہ وہ ایک قوم، ایک پرچم، ایک قومی ترانے کے لیے پورے ملک میں مہم چلائے گی۔
اس سے قبل ستمبر 2022 میں موہن بھاگوت نے کئی مسلم مذہبی رہنماؤں سے ملاقات کی تھی۔ میٹنگ میں گیانواپی تنازعہ، حجاب تنازعہ اور آبادی کنٹرول جیسے مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس دوران بھاگوت نے دہلی کی ایک مسجد کا دورہ بھی کیا۔
پچھلے کچھ سالوں سے آر ایس ایس نے اپنی حکمت عملی بدلی ہے ک س گھر پرمکھ موہن بھاگوت باقاعدگی سے ‘مسلم دانشوروں،’ سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے اماموں سے ملاقات کے لیے مساجد کا بھی دورہ کیا اور بچوں سے ملاقات کے لیے مدرسے بھی گیے ہیں ـ آر ایس ایس کے سینئر پرچارکوں نے غیر رسمی بات چیت میں واضح کیا کہ مسلمانوں کے ساتھ آر ایس ایس کی بات چیت طویل مدتی مقصد کے لیے ہے۔ آر ایس ایس چاہتی ہے کہ سماج میں ہر کوئی امن اور تعاون سے رہے۔ آر ایس ایس ہندو مسلم تنازعات سے بچنے کی مسلسل کوشش کر رہی ہے۔ آر ایس ایس ہندو سماج میں یہ ذہنیت پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ ہندوستان میں رہنے والا ہر کوئی ہمارا اپنا ہے، چاہے اس کا کوئی بھی دھرم ہو۔مگر کیا عملی طور پر ایسا ہے یہ بڑاسوال ہےـ








