جمعرات 31جولائی کو کو این آئی اے کی خصوصی عدالت نے 2008 کے مالیگاؤں دھماکہ کیس میں سبھی ساتوں ملزمین کو بری کر دیا۔ اب اے ٹی ایس کے ریٹائرڈ افسر محبوب مجاور نے اس معاملے پر بڑا سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے۔
۔سابق افسر محبوب مجاور نے آج تک کو بتایا کہ مالیگاؤں دھماکوں کے بعد اس وقت کے تفتیشی افسر پرم ویر سنگھ اور ان کے اعلیٰ افسران نے مجھے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ تھا
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ملک میں بھگوا دہشت گردی کے تصور کو ثابت کرنے کے لیے ان پر غلط تحقیقات کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ مجاور نے کہا کہ میں نے اس کی مخالفت کی کیونکہ میں کوئی غلط کام نہیں کرنا چاہتا تھا۔ لیکن مجھ پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے۔ لیکن میں ان تمام مقدمات میں بری ہو گیا۔
۔مجاور نے اسی کے ساتھ دوسری برعکس بات بھی آج تک سے کہی انہوں نے یہ الزام لگایا کہ چارج شیٹ میں مارے گئے لوگوں کو زندہ قرار دینے کے لیے مجھ پر دباؤ ڈالا۔ جب میں نے انکار کیا تو اس وقت کے آئی پی ایس افسر پرم ویر سنگھ نے مجھے جھوٹے مقدمے میں پھنسایا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی چاہے بھگوان ہو یا سبز، معاشرے کے لیے اچھی نہیں ہے۔ مجاور نے یہ بھی کہا کہ وہ مالیگاؤں دھماکہ کیس میں عدالت کے فیصلے سے خوش ہیں۔
عدالت نے 2008 کے مالیگاؤں بم دھماکہ کیس میں تمام ملزمین کو بری کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ ملزم کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت اور گواہ نہیں ہیں۔ عدالت نے کہا کہ صرف بیانیے کی بنیاد پر کسی کو مجرم نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ جسٹس لاہوتی نے فیصلے میں لکھا کہ استغاثہ ٹھوس شواہد اور معتبر گواہ پیش نہیں کرسکا۔
جسٹس اے کے لاہوتی نے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا کیونکہ کوئی مذہب تشدد کی حمایت نہیں کرتا۔ ساتوں ملزمان کو مصدقہ شواہد کی عدم موجودگی میں بری کر دیا گیا۔( تصویر بشکریہ آج تک )









