مالیگاؤں بم دھماکہ کیس (2008) میں 31 جولائی 2025 کو خصوصی NIA عدالت نے تمام سات ملزمان کو بری کر دیا۔ عدالت کا فیصلہ کئی اہم نکات پر مبنی ہے، جن کا خلاصہ اور تجزیہ درج ذیل ہے:
عدالتی فیصلے کا خلاصہ
** تمام ملزمان بری
عدالت نے فیصلہ دیا کہ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، لیفٹیننٹ کرنل پرساد پروہت، سدھاکر دویدی، اجے رہیرکر، سمیر کلکرنی، رمیش اپادھیائے، اور سدھاکر چترویدی پر عائد الزامات ثابت نہیں ہو سکے۔
⚖️ عدالت کے فیصلے کے اہم نکات (Observations)
- شک کا فائدہ ملزمان کو
عدالت نے کہا:“استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ بم نصب کرنے کی سازش میں ملزمان براہ راست ملوث تھے۔” - موٹر سائیکل کی ملکیت ثابت نہ ہونا
جس موٹر سائیکل میں بم نصب تھا، وہ سادھوی پرگیہ سنگھ کے نام پر رجسٹرڈ تھی۔لیکن عدالت نے کہا:“یہ ثابت نہیں کیا جا سکا کہ موٹر سائیکل واقعہ کے وقت ان کے قبضے میں تھی یا وہ جانتی تھیں کہ اس کا کیا استعمال ہوگا۔” - لیفٹیننٹ کرنل پروہت پر ثبوت ناکافی
عدالت نے کہا کہ: “ پروہت کے خلاف فوجی انٹیلیجنس کے رابطوں کے علاوہ کوئی براہ راست شواہد نہیں کہ انہوں نے بم فراہم کیا یا سازش کا حصہ بنے۔” - 34 گواہ منحرف ہو گئے
کیس میں 323 گواہان پیش ہوئے، جن میں سے 34 گواہان اپنے بیان سے مکر گئے۔عدالت نے اس کو استغاثہ کی کمزوری قرار دیا۔ - فارنسک شواہد میں تضاد
بم بنانے کے طریقے اور مواد کے بارے میں فارنزک شواہد غیر حتمی اور تضاد پر مبنی تھے۔
6.یو اے ہی اے UAPA دفعات ثابت نہیں ہو سکیں عدالت نے کہا کہ انسداد دہشت گرد قانون (UAPA) کے تحت درج الزامات قانونی معیار پر پورے نہیں اترے۔ - تاخیر اور کمزور تفتیش
عدالت نے بین السطور میں تسلیم کیا کہ ابتدائی تفتیش میں کئی خامیاں تھیں، اور NIA بھی الزامات کو مؤثر انداز میں نہیں ثابت کر سکی۔
“تمام ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کیا جاتا ہے کیونکہ استغاثہ الزامات کو معقول شک سے بالاتر ثابت نہیں کر سکا” — خصوصی NIA عدالت،








