نئی دہلی: امریکہ نے ایک طرف بھارت پر 25فیصد ٹیکس عائد کرنے اور جرمانہ وصولنے کا اعلان کیا تو وہی۔ دوسری جانب ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ تجارتی معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے عجیب وغریب بات کہی ـانہوں نے کہا کہ شاید ایک دن ایسا آئے جب پاکستان بھارت کو تیل بیچے۔ امریکہ اور پاکستان کے بیچ طے پائے اس تجارتی معاہدے کے تحت امریکہ اسلام آباد کے تیل کے ذخائر کو ترقی دینے کے لیے اس کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ یہ نئی دوستی کی نئی گرم جوشی کا غیر معمولی اظہار ہے ـ
امریکی صدرٹرمپ نے اس ڈیل کا اعلان کرتے ہوئے کہا "ہم نے ابھی جنوبی ایشائی ملک پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت پاکستان اور امریکہ اپنے تیل کے بڑے ذخائر کو ترقی دینے کے لیے مل کر کام کریں گے۔ ہم آئل کمپنی کا انتخاب کرنے کے پروسس میں ہیں جو اس پارٹنرشپ کی قیادت کرے گی۔
ٹرمپ نے بدھ کو ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں مزید لکھا کہ ‘کون جانتا ہے کہ شاید ایک دن ایسا بھی آئے جب پاکستان بھارت کو تیل فروخت کرے!’
ٹرمپ کا پاکستان کے ساتھ ڈیل کا یہ اعلان بھارت پر 25 فیصد محصولات اور روسی فوجی سازوسامان اور توانائی کی نئی دہلی کی خریداری پر اضافی جرمانے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وائٹ ہاؤس تجارتی معاہدوں پر کام کرنے میں "بہت مصروف” ہے، انہوں نے متعدد ممالک کے رہنماؤں سے بات کی ہے اور ہر ملک امریکہ کو خوش کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جلد ہی جنوبی کوریا کے تجارتی وفد سے ملاقات کریں گے۔
انہوں نے لکھا کہ "اسی طرح، دیگر ممالک ٹیرف میں کمی کی پیشکش کر رہے ہیں۔ یہ سب ہمارے تجارتی خسارے کو بہت بڑے طریقے سے کم کرنے میں مدد کریں گے۔ مناسب وقت پر مکمل رپورٹ جاری کی جائے گی۔”









