پونے سے ایک شرمناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ ایک سنگین الزام سامنے آیا ہے کہ کارگل جنگ میں ملک کے لیے لڑنے والے سابق فوجی حکیم الدین شیخ کے خاندان کو ‘بنگلہ دیش’ کہہ کر نشانہ بنایا گیا۔ ہندوستان لائیو کے مطابق پونے کے چندن نگر علاقے میں تقریباً 80 لوگوں کے ایک گروپ نے آدھی رات کو ان کے خاندان کے گھر پر چھاپہ مارا، ہندوستانی ہونے کا ثبوت مانگا اور گالی گلوچ کی۔ اس واقعہ نے نہ صرف علاقے میں سنسنی پیدا کر دی ہے بلکہ سابق فوجیوں کے وقار اور شہری حقوق پر بھی ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے۔
حکیم الدین شیخ کون ہیں؟
حکیم الدین شیخ ہندوستانی فوج کی انجینئرز رجمنٹ میں حوالدار تھے اور کارگل جنگ میں حصہ لے چکے ہیں۔ وہ 2000 میں ریٹائر ہوئے اور اس وقت پرتاپ گڑھ، اتر پردیش میں رہتے ہیں، جب کہ ان کے چھوٹے بھائی ارشاد شیخ 60 سال سے اپنے خاندان کے ساتھ پونے میں رہ رہے اس رات کیا ہوا؟
یہ واقعہ ہفتہ کی رات کا بتایا جا رہا ہے۔ متاثرہ کے اہل خانہ کے مطابق، "رات تقریباً 12 بجے 80 سے زائد افراد نے زور زور سے دروازہ پیٹنا شروع کر دیا۔ کچھ لوگ گھر میں داخل ہوئے اور آدھار کارڈ مانگنے لگے، جب دستاویزات دکھائے گئے تو انہیں جعلی بتایا گیا اور خواتین اور بچوں سے بھی دستاویزات کا مطالبہ کیا گیا”۔ انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ ان کا خاندان یہاں کئی نسلوں سے رہ رہا ہے اور ان کے تین رشتہ دار فوج میں ہیں، تب بھی ان لوگوں نے ان پر بنگلہ دیشی ہونے کا الزام لگایا اور ‘جے شری رام’ کے نعرے لگائے۔
حکیم الدین کے بھائی ارشاد شیخ نے کہا کہ "ہم ہندوستانی ہیں، ضرورت پڑنے پر 400 سال پرانے ثبوت بھی فراہم کر سکتے ہیں۔ ہمارے چچا 1971 کی جنگ میں زخمی ہوئے تھے اور ایک اور چچا عبدالحمید کے ساتھ 1965 میں لڑے تھے۔” ارشاد کا دعویٰ ہے کہ وہاں دو پولیس اہلکار سادہ کپڑوں میں موجود تھے لیکن انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ جب لواحقین شکایت لے کر چندن نگر پولس اسٹیشن پہنچے تو انہیں گھنٹوں انتظار کرنے کے لیے کہا گیا اور پھر اگلی صبح آنے کو کہا گیا۔
دریں اثنا اس پورے معاملے میں ڈپٹی کمشنر آف پولیس سومے منڈے نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گھر میں کوئی بڑا گروپ گھس نہیں آیا ہے۔ انہوں نے کہا، "پولیس شہر میں غیر قانونی بنگلہ دیشی شہریوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔ معلومات کی بنیاد پر، دستاویزات کی جانچ پڑتال کی گئی، لیکن دستاویزات میں کوئی بے ضابطگی نہیں پائی گئی۔”








