اتر پردیش کے فتح پور میں نواب عبدالصمد کی قبر کو لے کر ہنگامہ بہت بڑھ گیا ۔ ہندو توتنظیمیں پیر کو اس مقبرے کو منہدم کرنے پر اتر آئیںـ ان کا دعویٰ ہے کہ ہزاروں سال قبل اس جگہ پر بھگوان شیو اور شری کرشن کا مندر تھا۔ اگرچہ انتظامیہ نے مقبرے کی حفاظت کے لیے رکاوٹیں کھڑی کر دی تھیں لیکن ہجوم کے سامنے تمام انتظامات ناکافی نظر آ ئے۔
شیو مندر ہونے کا دعویٰ؟
نیوز پورٹل آج تک کے مطابق یہ سارا تنازع شیو مندر اور مقبرے کو لے کر ہے۔ ہندوتو تنظیموں نے دعویٰ کیا ہے کہ مقبرہ شیو اور سری کرشنا کا مندر ہے۔ موقع پر ہندو تنظیموں کے لوگوں کی بڑی بھیڑ جمع ہوگئی۔ ہندو تنظیموں کے لوگ یہاں مقبرے میں پوجا کرنے کے لیے جمع ہوئے ۔ انتظامیہ ان لوگوں کو روکنے کی کوشش کی لیکن زیادہ بھیڑ ہونے کی وجہ سے کامیابی نہیں مل سکی بی جے پی کے ضلع صدر مکل پال نے صدر تحصیل علاقے میں واقع نواب عبدالصمد کے مقبرے کو مندر کہا تھا اور اس دعوے کے بعد تنازعہ شروع ہو گیا تھا۔ اس نے اس مقبرے کو ٹھاکر جی اور شیو جی کا ہزار سال پرانا مندر کہا ۔ مندر کی شکل بدل کر اسے مقبرہ بنانے کے دعوے کیے گیے ۔ہندوتو تنظیموں نے کہا کہ مقبرے پر کمل کا پھول اور ترشول کا نشان اس کے مندر ہونے کا ثبوت ہے۔ انہوں نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ مندر میں پوجا کی اجازت دی جائے کیونکہ یہ ہندوؤں کے عقیدے کا مرکز ہے۔ اسے مقبرے میں تبدیل کرکے ان کی شردھا کو ٹھیس پہنچائی گئی ہے۔ ضلع صدر نے کہا کہ سناتن ہندو اسے برداشت نہیں کریں گے اور اگر وہاں کچھ ہوا تو انتظامیہ ذمہ دار ہوگی۔
ضلع انتظامیہ نے معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور اس وقت کئی تھانوں کی پولیس فورس موقع پر موجود ہے۔ ہندوتو تنظیم کے لوگ مقبرے کے احاطے میں گھس گئے اور وہاں بنائے گئے مقبرے میں توڑ پھوڑ کی ۔ اس دوران ان کی پولیس سے جھڑپ بھی ہوئی۔مزید تفصیل کا انتظار ہے








