اردو
हिन्दी
فروری 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ہندوستان کی تحریک آزادی میں علماء اور مدارس کا کردار

6 مہینے پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر
A A
0
70
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

میرا مطالعہ:مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی
ہندوستان کی تحریک آزادی میں علماء اور مدارس کا اہم کردار رہا ہے۔ علماء نے نہ صرف مذہبی قیادت کی ،بلکہ انہوں نے سیاسی اور سماجی طور پر بھی ہندوستان کی تعمیر وترقی اور اس کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانے کے لئے تحریک چلائی ، اس کے لئے اہم فیصلے لئے اور عوام کے درمیان اپنے اثرورسوخ کو استعمال کرکے تحریک آزادی کو عوامی تحریک بنانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ علماء مذہبی قائدین  تھے ، ان کا رشتہ سماج کے ہر طبقہ بالخصوص مسلمانوں سے  بہت مضبوط تھا ، چنانچہ انہوں نے اس سے فائدہ حاصل کرکے مسلمانوں کو انگریزوں کے خلاف متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مسلم سماج کے لوگوں کو بالخصوص اور برادران وطن کوبالعموم آزادی کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے انگریزی حکومت کے خلاف فتوے جاری کئے۔ ان کی ملازمت کو حرام قرار دیا، انگریزوں کے خلاف تحریکیں چلائیں، مساجد اور مدارس کو اس کا مرکز بنایا اور لوگوں کو تحریک آزادی میں حصہ لینے کی ترغیب دلائی۔
علماء نے تحریک آزادی کی سیاسی قیادت  بھی کی ،اس کے لئے ملی اور سماجی تنظیمیں قائم کیں ، مزید مدارس کے جال بچھائے، تحریک مجاہدین، جمعیۃ علمائے ہند، امارت شرعیہ، آل انڈیا مومن کانفرنس، مجلس ابرار جیسی تنظیموں کے ذریعہ تحریک آزادی میں سرگرم حصہ لیا۔ انہوں نے سیاسی پارٹیوں کے ساتھ مل کر تحریک آزادی کو مضبوط کیا۔ انگریزوں کے خلاف مظاہرے کئے، احتجاجی ریلیاں نکالیں، انگریزوں سے مقابلہ کے لئے رضاکاروں کو تیار کیا اور باضابطہ فوجی نظام کی تشکیل کی۔
ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو سب سے پہلے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نےمحسوس کیا اور انہوں نے نہایت ہی دور اندیشی کے ساتھ اس کو ختم کرنے کے اصول اور طریقۂ کار کی نشاندہی فرمائی اور باشندگان وطن کے بنیادی حقوق کو پامال کرنے والے نظام حکومت کے خاتمہ کی تلقین کی۔
جب ۱۸۰۳ء میں ہندوستان پر انگریزوں کا باضابطہ قبضہ ہوگیا تو اس کے خلاف حضرت شاہ عبدالعزیز دہلویؒ نے جہاد کا فتوی صادر کیا اور ہندوستان کو دارالحرب قرار دیا۔اس طرح ۱۸۰۳ء ہی سے علمائے کرام نے انگریزوں کے خلاف تحریک شروع کردی۔ اس وقت سے ۱۸۵۷ء تک وہ انگریزی حکومت کے خلاف مسلسل جنگ کی  اور تحریک مجاہدین کے علماء اس کی قیادت کرتے رہے۔
۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں علمائے کرام نے باقاعدہ جنگ میں حصہ لیا۔  انہوں  نے اس جنگ میں شرکت کو جہاد قرار دیا اور عوام کو اس میں شرکت کی  ترغیب دلانے کے لئے ملک میں وعظ و تقریر کا سہارا لیا، اس کے لئے جہاد  کا ایک متفقہ فتویٰ   جاری کیا اور انگریزوں سے جہاد کو فرض قرار دیا۔ اس فتویٰ نے آزادی کی آگ کو بھڑکا دیا ، یہی نہیں ، بلکہ شاملی کے میدان میں انگریزوں سے جنگ کی، مگر افسوس کہ وہ جنگ آزادی میں ناکام رہے، جس کی وجہ سے انگریزی حکومت نے مسلمانوں کو بالعموم اور  علمائے کرام کو بالخصوص  اپنے ظلم وستم کا نشانہ بنایا۔ انگریزوں کے ظلم وستم سے لاکھوں مسلمان شہید ہوئے  ،ان میں سے بڑی تعداد علماء کی تھی ایڈورڈ ٹامس  کے مطابق صرف دہلی میں پانچ سو علماء کو پھانسی دی گئی، یہ سبھی علماء مدارس کے پرور دہ تھے۔جب علمائے کرام کو ۱۸۵۷ء کی جنگ میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی ، تو انہوں نے انگریزوں سے مقابلہ کے لئے نئی کھیپ تیار کرنے کا منصوبہ بنایا اور دیوبند میں دارالعلوم کے نام سے ایک دینی  ادارہ قائم کیا اوروہاں سے پورے ملک میں مدارس ومکاتب قائم کرنے کی تحریک چلائی ،جس کے نتیجہ میں چندبرسوں میں ہزاروں مساجد اور لاکھوں علماء تیار ہوگئے۔ انہوں نے اپنے جذبۂ حریت و آزادی
  نیز شعلہ بار تقریر وتحریر کے ذریعہ پورے ملک میں آزادی کی تحریک کوتیز کردیا۔  انہوں نے ہندوستان کی آزادی کے لئے انڈین نیشنل کانفرنس کے ساتھ اتحاد کیا۔ تحریک ریشمی رومال، تحریک خلافت، ہندومسلم اتحاد، تحریک ترک موالات کے ذریعہ بڑی بڑی تحریکیں چلائیں، اس تحریک کو مضبوط کرنے کے لئے جمعیۃ الانصار، دائرۃ التربیت، جمعیۃ علمائے ہند، امارت شرعیہ جیسی تنظیموں سے کام لیا، جس نے ملک میں تحریک آزادی کی مشعل کو شعلۂ جوالہ بنادیا۔ غرض ہندوستان کی تحریک آزادی میں مدارس کا اہم کردار ہے اور علماء کی تحریک آزادی ہندوستان کی تاریخ تحریک آزادی کا اہم باب ہے، جس کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔
       علمائے کرام جنہوں نے تحریک آزادی میں حصہ لیا، ان کی تعداد بے شمار ہے، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ  جب کبھی   مجاہدین آزادی  کو یاد کرنے کا موقع آتا ہے، تو ہماری زبان پر چند مجاہدین آزادی کے نام آتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ غیر تو غیر رہے، ہم خود اور ہماری نئی نسل مسلم مجاہدین آزادی کے نام اور خاص طور سے علمائے کرام کے کارناموں سے ناواقف ہوتے جاتے ہیں۔
۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کوہندوستان کو آزادی ملی،اس تاریخ کو مجاہدین آزادی کے کارناموں کو یاد کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر ہمیں چاہئے کہ دیگر مجاہدین آزادی کے ساتھ مسلم بالخصوص علماء مجاہدین آزادی کے کارناموں کو بھی یاد کر کے انہیں خراج تحسین پیش کریں علمائے کرام جنہوں نے تحریک آزادی میں حصہ لیا، ان کی تعداد بے شمار ہے، البتہ ان میں سے چند کے نام پیش کئے جاتے ہیں۔
مولانا ولایت علی صادق پوری ،مولانا عنایت علی صادق پوری ، مولانا فرحت حسین صادق پوری، مولانا احمد اللہ صادق پوری،مولانا عبد اللہ صادق پوری ،مولانا فیاض علی صادق پوری ،مولانا عبد الرحیم صادق پوری، مولانا سید محمد نذیر حسین عرف میاں صاحب ، مولانا عبد العزیزرحیم آبادی ، مولانا سیدشاہ بدرالدین قادری پھلوارویؒ ، مولانا ابراہیم دربھنگوی ، مولانا سید محمد اسحٰق مونگیری ،مولاناخدا بخش مظفر پوری ،مولانا ابو المحاسن محمد سجادبانی امارت شرعیہ ، مولانا سید سلیمان ندوی ،مولانا محمد رحمت اللہ چتراوی ، مولانا عتیق الرحمٰن آروی ،مولانا عبدالحکیم گیاوی، مولانا حکیم عبدالرحمٰن وفا عظیم آبادی ثم ڈمرانوی،مولا نا سیدشاہ محی الدین قادری پھلواروی ،مولانا ابولبرکات عبدالرؤف دانا پوری ،مولانا عبد الوہاب دربھنگوی ،مولانا شائق احمد عثمانی بھاگلپوری ،مولانا محمد سہول عثمانی بھاگلپوری ، مولانا عبد الودود محی الدین نگری سمستی پوری ، مولانا سید نثار احمد انوری دربھنگوی ،مولانا عبد الباری جھمکاری ، مولانا عثمان غنی دیوری ،مولانا سید محمد قریش باروی ،مولانا عزیز الرحمٰن دربھنگوی ، مولاناحکیم یوسف حسن خان سوری ، مولانا اصغر حسین بہاری ، مولانا عبد العلیم آسی دربھنگوی ، مولانامحمد ابراہیم تاباں پورینوی، مولانا حافظ عبد الرشید سمتی پوری، ، مولا نا عبد الرحیم دوگھروی دربھنگوی،مولانا ادریس دوگھروی دربھنگوی،مولانا عبد الرشید حسرت بیلہیاوی ، مولانا لطف الرحمٰن ہر سنگھ پوری، مولا سید نوراللہ رحمانی، مولانا محمود عالم سمستی پوری، مولانا محمد قاسم سوپولوی ، مولانا سید منت اللہ رحمانی، مولانا محمد سلیمان آواپوری ، مولانا سید عبدالرب نشتر کھگڑیا وی،مولانا سید شاہ عون احمد قادری پھلواروی ، مولانا مفتی ظفیر الدین دربھنگوی، مولانا حبیب اللہ گیاوی ، مولانا محمد عبد الحمید بھاگلپوری ،مولانا نورالدین بہاریؒ ۔
آپ نے علمائے کرام کے ناموں کی فہرست کا مطالعہ کیا، یہ سبھی علمائے کرام مدارس کے پروردہ تھے۔ مدارس کی تعلیم وتربیت نے ان کے اندر حب الوطنی کے جذبہ کو پروان چڑھایا اور انہوں نے انگریزوں سے مقابلہ کرکے ملک میں بسنے والے ہندو، سکھ ،عیسائی اور دیگر برادران وطن کے ساتھ مل کر ملک کو آزاد کرایا، مگر نہایت ہی افسوس کی بات ہے کہ آج مدارس کو شک کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے اوراس پر دہشت گردی کے الزامات لگائے جارہے ہیں، یہ بڑا قومی المیہ ہے، موجودہ وقت کی مناسبت  سے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
جب پڑا وقت گلستاں پہ تو خوں ہم نے دیا
جب بہار آئی تو کہتے ہیں ترا کام نہیں

ٹیگ: articlefreedom fightersindependence movementIndiamadrasasroleUlema

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Power Decline Political Narrative
مضامین

اقتدار کا ڈھلتا سورج اور ٹوٹتا ہوا بیانیہ!

07 فروری
Muslims Shudra Category Campaign
مضامین

شودروں کے زمرے میں، مسلمانوں کو ڈالنے کی مہم،

02 فروری
AIMIM BJP Muslim Issues
مضامین

مجلس والے بی جے پی کو مسلمانوں کے خلاف نئے نئے ایشو تھمارہے ہیں!

31 جنوری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
World News Brief

عالمی خبریں: اختصار کے ساتھ

جنوری 28, 2026
Urdu Language and Unani Medicine NEP 2020

قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تناظر میں اردو زبان اور یونانی طب

جنوری 28, 2026
Jamiat Ulema-e-Hind Freedom Role

جمعیتہ علمائے ہند کو آزادی کی تاریخ میں جگہ کیوں نہیں ملی؟

جنوری 31, 2026
AI Quran Tafsir Prohibited

مصنوعی ذہانت (AI) سے قرآن پاک کی تفسیر شرعاً ممنوع :مصری دارالافتاء

جنوری 28, 2026
Vande Mataram Mandatory Muslim Board Objection

وندے ماترم کو لازمی قرار دینا غیر آئینی ،مذہبی آزادی کے مںافی،ناقابل قبول۔:مسلم پرسنل لا بورڈ

Sambhal Madrasa Demolition Land Allegation

سنبھل میں ایک اور ‘غیر قانونی’ مدرسے کو مسمار کردیا گیا سرکاری زمین پر بنانے کا الزام

طلاق حسن سپریم کورٹ انکار

طلاقِ حسن کی آئینی حیثیت کو چیلنج،وہاٹس ایپ اور ای میل سے طلاق پر عبوری روک سے سپریم کورٹ کا انکار

Islamophobia School Separate Function Issue

اسلاموفوبیا: ایک ممتاز نجی اسکول میں مسلم اور غیر مسلم اسٹوڈنٹس کے علیحدہ سالانہ فنکشن، یہ ہوکیا رہا ہے؟

Vande Mataram Mandatory Muslim Board Objection

وندے ماترم کو لازمی قرار دینا غیر آئینی ،مذہبی آزادی کے مںافی،ناقابل قبول۔:مسلم پرسنل لا بورڈ

فروری 12, 2026
Sambhal Madrasa Demolition Land Allegation

سنبھل میں ایک اور ‘غیر قانونی’ مدرسے کو مسمار کردیا گیا سرکاری زمین پر بنانے کا الزام

فروری 12, 2026
طلاق حسن سپریم کورٹ انکار

طلاقِ حسن کی آئینی حیثیت کو چیلنج،وہاٹس ایپ اور ای میل سے طلاق پر عبوری روک سے سپریم کورٹ کا انکار

فروری 12, 2026
Islamophobia School Separate Function Issue

اسلاموفوبیا: ایک ممتاز نجی اسکول میں مسلم اور غیر مسلم اسٹوڈنٹس کے علیحدہ سالانہ فنکشن، یہ ہوکیا رہا ہے؟

فروری 12, 2026

حالیہ خبریں

Vande Mataram Mandatory Muslim Board Objection

وندے ماترم کو لازمی قرار دینا غیر آئینی ،مذہبی آزادی کے مںافی،ناقابل قبول۔:مسلم پرسنل لا بورڈ

فروری 12, 2026
Sambhal Madrasa Demolition Land Allegation

سنبھل میں ایک اور ‘غیر قانونی’ مدرسے کو مسمار کردیا گیا سرکاری زمین پر بنانے کا الزام

فروری 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN