مجھے کچھ کہنا ہے:محمد خالد (لکھنؤ)
یوم آزادی کے موقع پر ہر سال مضامین کا ایک سلسلہ رہتا ھے اور مسلمان مضمون نگار حضرات جنگ آزادی میں مسلمانوں کے کردار اور قربانیوں کا بیان کرتے ہیں اور کرنا بھی چاہئے مگر ان مضامین کا دوسرے لوگوں میں تو کیا اپنوں میں بھی کوئی اثر نظر نہیں آتا.
اس پر بھی غور کیا جانا چاہئے.
اس عارضی دنیا میں ایسا کوئی معاملہ ممکن نہیں ھے جس کے لئے سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ میں رہنمائی موجود نہ ہو. اس لئے ضروری ھے کہ زندگی کے کسی بھی معاملے میں جب کچھ کہا یا کیا جائے تو سب سے پہلے سیرت طیبہ کو دیکھنے اور وہاں سے رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے.
اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بہت سے نبیوں کی تاریخ اور حالات پیش کئے ہیں مگر کیا کبھی ایسا ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان تاریخی واقعات کو پیش فرماتے رہتے اور روزمرہ کے معمولات کے مطابق کوئی رہنمائی نہ فرماتے.
یقیناً ایسا نہیں ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ایک معاملے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی رہنمائی فرماتے رہتے اور اپنے اصحاب کو اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی تلقین فرماتے رہتے جس کے نتیجے میں بہت قلیل مدت میں ایک ایسا انقلاب برپا ہوا کہ زمانہ اس کی مثال دینے سے قاصر ھے.
یہ فطری بات ھے کہ جب ہم اپنی زندگی میں اللہ کی دی ہوئی ذمہ داری کو ادا کرنے کی جدوجہد میں لگیں گے تو پھر اللہ تعالیٰ کی مدد بھی آئے گی اور ہمارے ماضی کی شاندار تاریخ کا اعتراف بھی کیا جائے گا.
آج ملک کے کسی بھی معاملے سے مسلمانوں کا ہی نہیں بلکہ مسلم قائدین کا بھی کوئی تعلق نظر نہیں آتا. اس وقت پورے ملک میں "ووٹ چوری” معاملات کا ایک طوفان آیا ہوا ھے مگر ایسا محسوس ہوتا ھے کہ اس ملک کی مسلمان قیادت کے نزدیک جمہوریت کی بقا کے لئے اتنے اہم معاملات کی بھی کوئی اہمیت کوئی موجود نہیں ھے.
اس غیر ذمہ دارانہ عمل کی موجودگی میں ہم کتنے ہی زور دار انداز میں اپنے ماضی کی قربانیوں کا ذکر کریں، اس سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ھے.
یہ ایک تلخ حقیقت ھے کہ اس ملک میں ایک طویل عرصے سے مسلمان خیر امت کے بجائے قوم مسلم کے طور پر زندگی گزارنا اپنی ذمہ داری سمجھ بیٹھے ہیں. جس دین کا آغاز اقرا یعنی علم کا حصول اور فراہمی سے ہوا اس دین کے ماننے والوں کا آج کیا حال ھے. ملک کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں کے ذریعے صرف مسلمانوں کے لئے تعلیمی ادارے قائم کئے جا رھے ہیں، مسلمانوں کی اقامتی یا پھر پورے دن کی کوچنگ کا اہتمام کیا جا رھا ھے، بہت سی کوچنگ اور ادارے مسلم طلباء کے لئے کروڑوں روپے کی اسکالر شپ کا اعلان کر رھے ہیں. انجینئر، ڈاکٹر، وکیل اور سول سروسز کے امتحانات کی تعلیم اور تیاری کے لئے قائم کی گئی کوچنگز میں ایک دوسرے سے مقابلہ ہو رھا ھے جس کی وجہ سے کچھ غیر اخلاقی معاملات بھی پیش آتے رہتے ہیں. فلاحی ادارے قائم کر کے مسلمانوں کے لئے بہت سی فلاحی کوششیں انجام دی جا رہی ہیں، سیاسی میدان میں مسلم سیاسی جماعتوں کی ضرورت پر مستقل زور دیا جا رھا ھے اور انتخابات کے موقع پر سیکولر سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا جاتا ھے کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں کسی مسلم کو ہی امیدوار بنایا جائے جس کے نتیجے میں مختلف سیکولر پارٹیاں مسلم اکثریتی علاقوں میں مسلمان کو ٹکٹ دے دیتی ہیں اور پھر کہیں پر بھی ایسا نہیں ہوتا کہ وہاں کے مسلمان سر جوڑ کر بیٹھیں اور فیصلہ کریں کہ کس مسلم امیدوار کو الیکشن میں حصہ لینا ھے اور کن لوگوں کو اگلے الیکشن میں موقع دیا جائے گا. جس کی وجہ سے اکثر مقامات پر مسلم امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا ھے. زندگی کے سبھی معاملات میں مسلمانوں کی اس روش نے معاشرے میں مسلمانوں کو بالکل الگ تھلگ کر دیا ھے خاص طور پر سیاسی میدان میں. انسانی تاریخ گواہ ھے کہ جو قوم سیاسی اعتبار سے کمزور ہو جاتی ھے تو پھر اس کے مسائل اور معاملات سے کسی بھی دوسرے کو کوئی دلچسپی برقرار نہیں رہتی ھے. اس لئے مسلمانوں کو اگر اس ملک میں باوقار زندگی گزارنا ھے تو پھر سیاست میں بھرپور انداز میں اور قومی نہیں بلکہ ملکی انداز میں حصہ لینے کا آغاز کرنا ہوگا جس میں حلقہ انتخاب کے صرف مسلمان نہیں بلکہ تمام ووٹروں کے مفادات کے لئے جدوجہد کی جائے. سیاست کے میدان میں مسلمان کو دینے والا ہاتھ بننا ہوگا، مانگنے والا ہاتھ نہیں. کیونکہ مانگنے والے ہاتھ سے کسی کو بھی کوئی توقع ہونا ممکن نہیں ھے. زمانہ ہمیشہ حال اور مستقبل پر نظر رکھتا ھے، ماضی پر نہیں.
اپنے ملک عزیز کی تاریخ تو ہمارے سامنے رہنا ہی چاہئے. اس ملک میں راجاؤں، مہاراجوں کی حکومتیں رہیں، ایک بہت لمبے عرصے تک مسلم دور حکومت رھا مگر اس ملک کے دین پسند طبقہ کے حضرات ہمیشہ حکومتی معاملات سے الگ رہ کر اپنی دینی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مصروف رہتے رھے. جس کی وجہ یہ تھی کہ سبھی لوگوں کو اپنی مرضی اور پسند کے مطابق زندگی گزارنے کا موقع حاصل تھا. اس ملک کا اکثریتی طبقہ اپنے مذہبی اصولوں کی بنیاد پر انسانوں میں مختلف قسم کی تفریق کرنا اپنی مذہبی ذمہ داری مانتا اور اس پر عمل کرتا رھا تھا جس میں براہ راست مسلمانوں نے کبھی بھی کوئی دخل اندازی نہیں کی تھی مگر خیر امت کے فریضہ سے ہمیشہ عملاً وابستہ رہتے تھے اور ان کی کوشش اللہ کے دین کو اللہ کے بندوں سے واقف اور وابستہ کرانے کی رہتی تھی. یہ حقیقت ھے کہ عرب ممالک کے بعد اگر دنیا میں کہیں بھی بڑی تعداد میں لوگوں نے دین حق کو قبول کیا ھے تو وہ اپنا ملک ہی ھے.
اس پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے غور کیا جانا چاہئے کہ جب علماء کرام نے ہمیشہ خود کو حکومتی معاملات سے الگ رکھا تھا تو پھر کیوں اس ملک میں انگریزوں کی آمد کے بعد سے ہی علماء حضرات متفکر ہونے لگے. علماء کرام کا انگریزوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کا عمل بہت کچھ سوچنے سمجھنے پر متوجہ کرنے والا ھے.
جب انگریز اپنے منصوبے میں کامیاب ہوگئے اور اس ملک کو غلام بنا لیا تو پھر اپنی چہار دیواری تک محدود رہنے والا علماء کا طبقہ میدان میں آ گیا اور اسلام کی یہ تعلیم کہ اللہ نے انسان کو آزاد پیدا کیا ھے اور آزاد رہنا اس کا بنیادی حق ھے کی روشنی میں انگریزوں سے نبرد آزما ہو گئے. ملک کو انگریزوں کے تسلط سے آزاد کرانے کے لئے ان علماء کرام نے کسی بھی قسم کا سمجھوتہ کرنا قبول نہ کیا اور ہزاروں کی تعداد میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا.
اللہ رب العزت کے نزدیک اکرام انسانیت مقدم ھے اور جب بھی معاشرے میں اکرام انسانیت کو نشانہ بنایا جائے گا اور اللہ کے دین پر ایمان لائے ہوئے لوگ اس کیفیت سے بے تعلق رہیں گے تو پھر اللہ رب العزت کی نصرت کا رُک جانا بھی فطری عمل ھے.
اس ملک میں خیر امت کے فریضہ پر معمور موجود لوگ اس ملک کی دوسری بڑی اکثریت ہیں مگر افسوس کہ نہ تو ملک کے سبھی لوگوں کو باعزت زندگی گزارنے کا موقع حاصل ھے اور نہ ہی امت مسلمہ کو.
اللہ تعالیٰ نے سبھی انسانوں کی خیر خواہی کے لئے ایمان کی بنیادوں میں انفاق کو لازم کیا ھے اور مسلمان کو حکم دیا گیا ھے کہ جو کچھ بھی اللہ کی طرف سے تم کو حاصل ھے اس میں دوسرے ضرورت مندوں کا بھی حصہ ھے مگر اس مستقل حکم کو سالانہ عمل "زکوٰۃ” کا پابند بنا دیا گیا ھے اور پھر اس زکوٰۃ کی رقم کا استعمال بھی اپنی پسند کے مطابق انجام دیا جاتا ھے جس کی وجہ سے غیر مسلموں کا کیا ذکر ملت اسلامیہ کے عام لوگوں کو بھی کوئی سہولت حاصل نہیں ہوتی.
خالقِ کائنات اللہ سبحانہ تعالیٰ کا بہت واضح اعلان ھے کہ؛
پھر جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا 0 اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا. یعنی کہ انسان کی اصل آزادی اس کے نیکی اور بدی کے عمل پر منحصر ھے اور نیکی صرف وہی عمل ھے جو کہ اللہ کی ہدایات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ کے مطابق ھے اس کے برعکس جو کچھ بھی ھے وہ بدی ھے چاھے وہ کسی کو کتنا بھی اچھا اور ضروری محسوس ہو.
دین اسلام کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنا ہی حقیقی آزادی ھے. یہ ایک ناقابل تسخیر حقیقت ھے کہ علماء کرام ہی جنگ آزادی کی بنیاد کی اینٹ بنے تھے جو نظر تو نہیں آتیں مگر ان کے بغیر عمارت کا تصور ممکن نہیں. بقول علامہ اقبال؛
سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا.
محمد خالد











