نئی دہلی: اپوزیشن نے چیف الیکشن کمشنر سے دو دو ہاتھ کرنے کا من بنالیا ہے خبر کے مطابق پیر کی صبح پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے انڈیا بلاک کے اجلاس میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف مواخذے کی تحریک لانے کے امکان پر غور کیا گیا۔ اتحادی رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو قواعد کے تحت مواخذے کی تحریک لا کر سی ای سی کو عہدے سے ہٹانے کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سید ناصر حسین نے کہا کہ ابھی رسمی غور نہیں کیا گیا ہے لیکن اگر صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اتحاد اس معاملے پر غور کرسکتا ہے۔بہار میں ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) سمیت مختلف مسائل پر اپوزیشن ارکان کے ہنگامہ آرائی کی وجہ سے راجیہ سبھا کو شروع ہونے کے پانچ منٹ کے اندر پیر کو دوپہر 2 بجے تک ملتوی کرنا پڑا۔
دریں اثنا سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے ایک بار پھر الیکشن کمیشن اور بھارتیہ جنتا پارٹی پر سخت حملہ کیا ہے۔ ایس پی صدر نے الزام لگایا کہ پسماندہ طبقات کے ووٹوں کو جان بوجھ کر کاٹا جا رہا ہے۔ اگر الیکشن کمیشن ہمیں جس شکل میں ووٹر لسٹ چاہے اس میں دے دے تو بہت سی چیزیں واضح ہو جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ جب سے یوپی میں بی جے پی کی حکومت آئی ہے، کسی شکایت پر کسی افسر کو نہیں ہٹایا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ الیکشن کمیشن بی جے پی کی بات سنتا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر ایسے ڈی ایم کے خلاف کارروائی کی جائے تو کسی کا ووٹ نہیں کاٹا جائے گا۔







