ابو نگر، ایسا لگتا ہے کہ فرقہ پرست عناصر کو اپنی سیاسی دکان چمکانے کے لیے ایک اور سنبھل کی تلاش ہے اور انہیں فتح پور کے مقبرے میں امید کی کرن نظر آرہی ہے خبر کے مطابق فتح پور میں نواب عبد الصمد کے مقبرے پر ہندوتووادیوں کی ہنگامہ آرائی کے بعد ہندو فریق نے اب محکمہ آثار قدیمہ سے سائنسی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ کاربن ڈیٹنگ اور دیگر جدید تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے ایک سروے کرایا جائے جس میں یہ ثابت کیا جائے کہ اصل ڈھانچہ کتنا پرانا ہے اور اسے کس دور میں بنایا گیا تھا۔ ہندو فریق کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ نے اس سمت میں پہل نہیں کی تو وہ عدالت سے رجوع کریں گے اور زمین ملکیت کے لیے درخواست دائر کریں گے۔وی ایچ پی کے صوبائی نائب صدر وریندر پانڈے نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ اس وقت کی حکومتوں نے خوشامد کی سیاست کے تحت انتظامیہ پر دباؤ ڈالا اور مندر کو کھٹونی میں مقبرے کے طور پر درج کرایا۔ ان کے مطابق مبینہ متنازعہ مقام کا اصل مندر تقریباً 400 سال پرانا ہے۔ ساتھ ہی مندر کے باہر چبوترے پر بنائے گئے مقبرے 100 سے 125 سال پرانے ہیں۔ جبکہ مندر کے اندر بنائے گئے مقبرے محض 10-20 سال پرانے ہیں۔ پانڈے نے کہا کہ اس پورے معاملے کی سچائی محکمہ آثار قدیمہ کی تحقیقات سے ہی سامنے آسکتی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ مبینہ متولی نے زمین ہتھیانے کے لیے مندر کو مقبرے میں تبدیل کر دیا اور اسے مبینہ غلط کاموں کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں
مقامی ہندو تنظیموں کا دعویٰ ہے ہے کہ تاریخی حقائق کو دبانے اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک یہ سائنسی اور آثار قدیمہ سے ثابت نہیں ہو جاتا تب تک کھتونی میں مقبرے کا داخلہ درست نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ دوسری جانب انتظامیہ اس معاملے میں امن برقرار رکھنے پر مسلسل زور دے رہی ہے۔ اس وقت متنازعہ مقام کے ارد گرد سیکورٹی سخت ہے اور اہلکار اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔








