گستاخی معاف:قاسم سید
بھارت میں آزادی کے بعد پیدا نئی نسل کے ذہین ترین ،تیز طرار،زیرک ،حاضر جواب اور موقع شناس مذہبی سیاستدانوں میں محمود مدنی صاحب کا نام بلاشبہ سر فہرست رکھا جاسکتا ہے ،اگر ان کے ٹائمنگ کے لحاظ سے وقتاً فوقتاً متنازع بیانات کو الگ رکھا جائے تو وہ ناپ تول کر بولنے والے سیاستدان ہیں ـ بظاہر خوش مزاج،وسیع ذہن ،کشادہ دل،اختلاف کو ایک حد تک برداشت کرنے کے ساتھ میڈیا دوست ہیں مگر اس کو اپنے کندھے پر ہاتھ رکھنے بھی نہیں دیتے
گزشتہ ماہ 23جولائی کو مولانا محمود مدنی نے اپوزیشن کے سرکردہ ممبران پارلیمنٹ کو جن میں زیادہ تر مسلم تھے عشائیہ دیا اور اس موقع پر مسلمانوں کے کور ایشوز پر زوردار انداز میں مسلم کمیونٹی کا موقف رکھا ،اس ہر الیکٹرانک میڈیا کے ایک حصے میں ڈیبیٹ بھی ہوئی یعنی اس کا نوٹس لیا گیاـ یہ محمود مدنی کا کمال ہے وہ جب بھی سرگرم ہوتے ہیں میڈیا میں چرچا کا موضوع بن جاتے ہیں اویسی کے بعد بلاشبہ وہ دوسرے مسلم سیاستداں ہیں جو میں اسٹریم میڈیا کی گڈ بک میں ہیں ،عام خیال ہے کہ وہ جو بھی قدم اٹھاتے ہیں بہت سوچ سمجھ کر اٹھاتے ہیں ،جو بیان دیتے ہیں اس کے بھی کئی معانی ہوتے ہیں ـاپنے بیان کے نشیب و فراز کو سمجھتے ہیں
23جولائی کے جمعیتہ کے ڈنر میں محمود مدنی نے جن ایشوز کو مدعو ممبران پارلیمنٹ کے سامنے رکھا وہ پانچ نکاتی ایجنڈا یہ تھا
آسام میں بلڈوزر کارروائی کا مسئلہ
2.ہیٹ اسپیچ اور ملک میں ہونے والے نفرت انگیز جرائم
3. بہار میں ایس آئی آر SIR کا عمل
4. ذات پات پر مبنی مردم شماری اور
5. مسئلہ فلسطین
بلاشبہ یہ تمام مسائل بہت سنگین اور فوری توجہ کے طالب ہیں جن میں مسلم کمیونٹی بری طرح گھری ہوئی ہے اور ہر مسئلہ اہم ترین ہے کوئی بھی چھوڑا نہیں جاسکتا ـ ان ہر سیر حاصل بحث بھی ہوئی ـ بعض حلقوں کا خیال تھا کہ جمعیتہ نے اوقاف کا تذکرہ نہیں کیا جو اس کے نزدیک بہت ہی اہم رہا ہے اور مسلمانوں کی ثقافتی ،تہذیبی اور اسلامی شناخت اس سے وابستہ ہے لیکن بوجوہ یا موقع محل کی مناسبت سے اس کو الگ رکھا گیا ،
میٹنگ شرکاء اور گفتگو کے لحاظ سے بہت کامیاب کہی گئی شرکا نے بڑی بڑی باتیں کیں ،کچھ وعدے کیے ڈنر کیا اور کچھ باتوں پر ٹھوس عملی قدم کا وعدہ کرکے اٹھے ـ امید تھی کہ محمود مدنی کی کوششوں سے ایک اچھی نشست عملی نتائج پیش کرے گی مگر وہی ڈھاک کے تین پات والی کہاوت صادق ہوتی نظر آرہی ہے
میٹنگ کے دوران آسام میں بلڈوزر کی کارروائی پر تفصیل سے بات چیت ہوئی جس میں ایک خاص کمیونٹی کو نشانہ بنایا جارہا ہے، ۔سلما وں کا جینا حرام کردیا گیا ہےـ میٹنگ میں ایک پارلیمانی کمیٹی بنانے پر زور دیا گیا جو آسام کا دورہ کرے اور وہاں کے بے گھر لوگوں سے ملاقات کرے اور ان کی باز آباد کاری کا انتظام کرے آسام سے روز بنگالی مسلمانوں کے خلاف ظلم وتشدد اور بے دخلی کی خبریں آرہی ہیں کیا ہوا ،اس وعدے پر کتنا عمل ہوا کوئی فالو اپ نہیں؟ ،جمعیتہ کی قیادت میٹنگ کے بعد ان لوگوں سے رابطے میں ہے یا نہیں ؟کچھ پتہ نہیں ،ابھی تک تو کوئی ایسا وفد نہیں گیا ہے
اسی طرح مسئلہ فلسطین پراجلاس میں موجود اراکین پارلیمنٹ نے خود کہا کہ فلسطین کے تئیں ہندوستانی حکومت کا رویہ ٹھیک نہیں ہے، ہندوستان کی فلسطین نواز پالیسی کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا ہے، اور اب فلسطین میں انسانیت ہی خطرے میں ہے۔ شریک ارکان پارلیمنٹ نے کہا کہ وہ جلد ہی اس مسئلہ پر ایک میمورنڈم تیار کرکے صدر جمہوریہ کو پیش کریں گے -یہ دو اہم سنکلپ لیے گیے تھےـ دونوں اپنی جگہ اہم تھے مگر ہوا کیا ،میڈیا میں خبر آئی ،ڈیبیٹ ہوگئی ،اس کے آگے راوی عیش لکھتا ہے ممکن ہے کچھ ہورہا ہو جس کا پتہ نہیں چل رہا یا انڈر پروسیس ہو ؟ـضروری نہیں کہ ہر بات بتائی جائے لیکن یہ ہماری پرانی بیماری ہے ہمارے یہاں فالو اپ کی روایت نہیں ـ تھوڑا سا ہنگامہ اور بس ،کمیونٹی بھی دلچسپی نہیں رکھتی کہ اس کے بعد کیا ہوا ـ بیواؤں کو سلائی مشین دینے،یتیموں کو کپڑے بانٹنے ،اور غریب طلباء کو سکالرشپ دینے کی خبروں کو پڑھانے پر یقین رکھنے والوں کو شاید فالو اپ کی ضرورت محسوس نہ ہو لیکن جمعیتہ جیسی ذمہ دار، سوسال سے بھی پرانی ،وسیع خدمات کا ریکارڈ رکھنے والی تنظیم اور محمود مدنی جیسے حقیقت پسند مذہبی عملی سیاستدان اس کی اہمیت اور نزاکت کو بخوبی سمجھتے ہیں یہ یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے ـ – ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگوں کے لیے یہ میٹنگ محض ایک خبر بھر ہو مگر سنجیدہ مزاج رکھنے والوں کے لیے یہ سکوت سمندر میں کنکر پھینکنے کی آواز تھی وہ اس سے اٹھی لہروں کی گہرائی اور وسعت جاننا چاہتے ہیں
کیونکہ میٹنگ کو آج ایک ماہ ہوگیا ،پارٹی وہپ کے پابند ممبران اپنے اپنے پارٹی گھروندوں میں جاکر اس اچھی شام میں کی گئی باتوں اور وعدوں کو نہاں خانہ دل میں دباکر بیٹھ گیے ـان کے اپنے بہت مسائل ہیں مسلم امور میں وہ وہیں تک جاسکتے ہیں جہاں تک ہائی کمان اجازت دے یہ اصول ہر پارٹی پر لاگو ہوتا ہے خواہ وہ سیاسی ہو یا مذہبی ،کہیں بھی کوئی بھی ورکر تک پارٹی ہائی کمان کی مرضی کے بغیر چوں چراں بھی نہیں کرسکتا ،
آئے دن اس کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے ،بات صرف اتنی ہے کہ سبز باغ دکھانے والوں کا ایکسپوز ہونا ضروری ہے حال ہی میں یوپی کے چالیس ٹھاکر ایم ایل اے ایک جگہ کٹمب نام سے جمع ہوئے مسلم ممبران پارلیمنٹ میں اتنی بھی اخلاقی جرات نہیں -،مولانا محب اللہ ندوی بے قرار ہوکر جمہوریت کے لیے جان دینے کی بات کرسکتے ہیں مگر ان کے منھ سے کبھی کمیونٹی کے لیے کچھ ایسا سننے کی حسرت لیے دنیا سے چلے جائیں گے ـاس صورت حال میں جمعیت یا محمود مدنی ا یا کوئی اور ن کا قصور نہیں وہ جتنا کرسکتے ہیں شاید اتنا کرتے ہوں ، اس سے آگے ان کے اختیار میں بھی نہیں








