اسرائیلی ٹینک پیر کے روز غزہ سٹی میں مزید اندر تک داخل ہو گئے اور وہاں کارروائی کرتے ہوئے ایک نواحی علاقے میں بارودی مواد سے بھری گاڑیاں دھماکوں سے اڑا دیں۔ حماس کے حکام اور عینی شاہدین نے یہ بھی بتایا ہے کہ اس دوران فضائی حملوں میں مزید کم از کم 19 افراد ہلاک ہو گئے۔
اسرائیلی دفاعی افواج نے حماس کے جنگجوؤں کے خلاف یہ تازہ کارروائی ایک ایسے وقت پر شروع کی ہے، جب نسل کشی کے خلاف دنیا کے سرکردہ ماہری کی ایک تنظیم نے ایک قرارداد میں کہا ہے کہ غزہ پٹی میں اسرائیل کے اقدامات کو نسل کشی قرار دینے کے لیے قانونی معیار پورا ہو چکا ہے۔اسرائیل کی طرف سے اس کارروائی یا اس بین الاقوامی تنظیم کی قرارداد پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اسرائیل اس سے قبل یہ موقف دوہرا چکا ہے کہ اس کے اقدامات نسل کشی کے زمرے میں نہیں آتےاسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے دستے غزہ پٹی میں حماس کے خلاف کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں اور تازہ کارروائیوں میں کئی ایسے فوجی ٹھکانوں اور چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جہاں سے اس پر حملے کیے جا رہے تھے۔
مقامی باشندوں کے مطابق اسرائیلی فوج نے پرانی بکتر بند گاڑیاں غزہ سٹی کے مشرقی علاقے شیخ رضوان میں داخل کیں اور پھر انہیں ریموٹ کنٹرول سے دھماکوں سے اڑا دیا، جس سے کئی گھر تباہ ہو گئے اور مزید خاندان نقل مکانی پر مجبور ہو گئے











