جمعیۃ علماء ہند کے صدر محمود مدنی نے آر ایس ایس سے کاشی،متھرا تنازع پر گفتگو کی پیشکش کے ساتھ آسام میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف جاری بے دخلی مہم کی حمایت کی ہے۔ ‘ہندوستان’ کے مطابق جمعہ کو انہوں نے کہا کہ کوئی بھی غیر ملکی یا بنگلہ دیشی شہری ہندوستان میں نہیں رہنا چاہئے۔ تاہم انہوں نے اس معاملے پر ریاست کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما پر سخت تنقید کی اور کہا کہ وہ ہر مسلمان کو بنگلہ دیشی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ مولانا
مدنی نے اے این آئی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، ‘کوئی بنگلہ دیشی، غیر ملکی ہندوستان میں نہیں رہنا چاہئے۔ مگر وہ (ہمنتا سرما) ہر مسلمان کو بنگلہ دیشی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ وہ مجھے بنگلہ دیش بھیجنے کی بات کر رہے ہیں جس سے ان کی ذہنیت ظاہر ہوتی ہے۔ سرما کا دعویٰ ہے کہ وہ ہیرو ہیں اور میں زیرو۔
محمود مدنی نے کہا کہ آسام میں انتخابات سے قبل جبری بے دخلی کی جا رہی ہے اور اس معاملے پر سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے آسام حکومت کو گھیرتے ہوئے کہا کہ وہ بے روزگاری اور بدعنوانی جیسے حقیقی مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔ محمودمدنی نے کہا، ‘آسام میں سپریم کورٹ کے رہنما خطوط کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے اور انتخابات قریب ہونے کے ساتھ ہی جبری بے دخلی ہو رہی ہے۔ وہ (آسام حکومت) نہیں چاہتی کہ بے روزگاری، بدعنوانی پر سوالات اٹھیں اور اصل مسائل سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔ وہ اسے ایک مخصوص کمیونٹی کا مسئلہ بنانا چاہتے ہیں۔’
سیاسی زبان پر تشویش کا اظہار
جمعیت کے صدر مولانا محمود مدنی نے بھی موجودہ دور میں سیاسی زبان پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسائل ابھی اہم نہیں ہیں اور وزیراعظم بھی اس پر توجہ نہیں دیتے۔ ہم سب کو تحمل سے کام لینا چاہیے۔ قبل ازیں محمود مدنی نے آسام کا دورہ کیا تھا اور حکومت کے طریقوں کے خلاف بات کرتے ہوئے انہیں بدقسمتی اور تکلیف دہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ‘ریاست میں بے دخلی مہم چلائی جا رہی ہے۔ یہ جس طرح سے کیا جا رہا ہے اسے دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ اگر آپ وہاں جا کر یہ دیکھیں گے تو آپ کو دکھ ہوگا۔ مجھے خاص طور پر دکھ ہوا کیونکہ کمیونٹیز اور ممالک ایک نظام کے تحت بنتے ہیں۔ اگر نظام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئی کام کیا جاتا ہے، اسے نظر انداز کیا جاتا ہے اور اسے پامال کیا جاتا ہے، تو یہ بدقسمتی اور تکلیف دہ ہے۔








