ملک کی سرکردہ اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ہمہ وقت سرگرم سوشلسٹ پارٹی انڈیا کے ۸ رکنی وفد نے آسام کے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و بربریت اور جبری بے دخلی کی سفاکانہ غیر قانونی مہم اور اس کے عام لوگوں پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لینے کے لئے ۳ اگست سے ۵ اگست تک متاثرہ علاقوں north lakheempur, golpara ,haseela bill، , jannatpur,bakhrikuchi , matia detention centre, karbala resettlement site, churakota,dhubri کا دورہ کیا ۔ صورتحال بہت افسوسناک اور صریح انسانی حقوق کی پامالی ہے ،وفد نے جائزے میں جو محسوس کیا اور مشاہدہ کیا اس کی مختصر روداد پیش ہے

(۱) حسیلابل میں ۶۶۷ مسلم خاندانوں کا گھر توڑا وہ بھی صرف دو دن کے نوٹس پر_ اس ظلم و ذہنی تشدد سے شدید متاثر ہو کر اب تک تین لوگوں کی موت ہوگئی ہے
(۲) کربلا سائٹ پر تین سو بے گھر خاندان جھوپڑی بنا کر رہ رہے ہیں اس زمین کو اک مقامی مسلم کسان نے عارضی طور پر دیا لیکن حد تو یہ ہے کہ اس تعاون پر آسام سرکار اس کسان کو پریشان کر رہی ہے
(3) جنت پور میں سوسے زائد فیملیوں کا گھر مسمار کردیا گیا ـوہ لوگ بھی کسمپرسی کی حالت میں جھوپڑی بنا کر کسی کسان کی دی گئی اراضی پر رہ رہے ہیں ،ان کی حالت بہت قابل رحم ہے
(4) ڈبھری ضلع کے بلاسی پارا میں 2000 فیملیوں کے گھروں کو توڑدیا گیا جس سے تقریبا دس بزار لوگ بے گھر ہوگیے۔ ان کی حالت دیکھ دل لرز جاتا ہے تمام بے گھر کیے گیے لوگ اسی مقام پر کھلے آسمان کے سایہ تلے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ـ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس جگہ پر کم و بیش ۲۰۰ پولس اہلکار بھی مستعد موجود تھے ـ وفد میں شامل لوگوں کو اندر جانے نہیں دیا لیکن وہیں پر سو سے زاید لوگوں نے نکل کر ہم لوگوں سے اپنی حالت زار بیان کی ۔ یہاں دو مقامی ایکٹوسٹ کو یہ جھوٹا الزام لگا کر گرفتار کر لیا کہ انہوں نے پولس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا۔
(5) اسی طرح نارتھ لکھیم پور میں پچاس سے زیادہ لوگوں کا گھر منہدم کردیا گیا جس میں تیرہ غیر مسلم بھی ہیں۔
6) بکھر کوچی میں 93 گھروں کو بلڈوزکیا گیا ـ بے گھر کیے گیے مظلومین کسی کسان کی دی گئی زمین پر عارضی جھوپڑی بناکر مجبوری کی زندگی گزار رہے ہیں
واضح رہے کہ جن لوگوں کا گھر مسمار کیا گیا ہے ان کے پاس آدھار کارڈ، ووٹر کارڈ راشن کارڈ جیسے اہم اور بنیادی دستاویزات موجود ہیں یہاں وہ تیس چالیس سال سے رہائش پذیر تھے ـ پھر بھی انہیں بخشا نہیں گیا
اس کے علاوہ ہم مٹیا (گول پاڑہ) ڈیٹنشن کیمپ گئے مگر کیمپ کے اندر نہیں جانے دیا ایک محتاط اندازے کے مطابق دس ہزار سے زیادہ لوگ ڈٹنشن کیمپ میں رکھے گئے ہیں
فی الحال یہ عبوری رپورٹ ہے جلد ہی پوری تفصیلات عوام کے سامنے رکھی جائیں گی تاکہ پتہ چلے کہ آسام سرکار خاص طور سے بنگالی مسلمانوں پر ‘.بنگلہ دیشی’ کے نام کتنا ظلم اور انسانی و بنیادی حقوق کی کس سطح پر جاکر پامال کررہی ہے آٹھ رکنی وفد میں درج ذیل لوگ شامل تھے جس کی قیادت پارٹی لیڈر اور میگسیسے ایوارڈ یافتہ گاندھی وادی ڈاکٹر سندیپ پانڈے کررہے تھے
1) ڈاکٹر سندیپ پانڈے لکھنؤ
2) سید تحسین احمد (دہلی)
3) نیا ٹپو (اروناچل)
4) ابوبکر (دہلی)
5) بیجو بورباروہ (آسام)
6) شاہد کمال (بہار)
7) رجنی رانی (پنجاب)
8) سربجیت کوشل (پنجاب)
پارٹی کے سینئیرلیڈر سید تحسین احمد۔ نے ‘روزنامہ خبریں’ کو بتایا کہ وفد دہلی لوٹ کر پریس کلب آف انڈیا میں پریس کانفرنس کرکے آنکھوں دیکھے حالات ملک کے سامنے رکھے گاـ ااس موقع پر تفصیلی رپورٹ بھی جاری کی جائے گی ـ








