گستاخی معاف:قاسم سید
جمعیتہ علمائے ہند کے صدر اور سب سے بزرگ، جہاں دیدہ ،مختلف حلقوں میں مقبول و معروف,قابل احترام مسلم مذہبی رہنما حضرت مولانا ارشد مدنی مد ظلہ العالی نے ایک بار پھر آر ایس ایس اور اس کے پرمکھ موہن بھاگوت کے تئیں نرم لب ولہجہ اپنایا ہے اسے ایک کھڑکی کھلی رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا ،باوجود اس کے کہ موجودہ سرکار دفعہ 370سے لے کر رام مندر،تین طلاق، اور کامن سول کوڈ وغپرہ پر جو کچھ کیا اور کہا وہ آر ایس ایس کا ہی ایجنڈہ ہے بہر کیف مولانا نے مسلمانوں سے متعلق آر ایس ایس کی حالیہ تجاویز کی خوب کھل کر تعریف کی۔ مولانا مدنی نے ماضی کو یاد کرتے ہویے کہا کہ میں نے آٹھ سال قبل بھاگوت کے ساتھ ڈیڑھ گھنٹے کی بات چیت کی تھی جبکہ لوگوں کو گفتگو کے لیے دس منٹ بھی نہیں ملتے ۔ مجھ سے سنگھ نے کہا تھا کہ وہ دھیرے دھیرے چلتا ہے ہم لوگ ڈیڑھ دوسال میں پھر ملیں گے آج آٹھ سال ہوگیے ان کی طرف سے کوئی بلاوا نہیں آیا ،۔ جمعیۃ کے صدر نے کہا کہ پہلے میں آر ایس ایس پرمکھ سے ان کی دعوت پر ملا تھا، لیکن اب مجھے لگتا ہے کہ ہمیں ان کو بلا کر ،مدعو کرکے ملنا چاہیے۔ آر ایس ایس ہندوؤں اور مسلمانوں کو متحد کرنا چاہتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس تجویز کو آگے بڑھایا جائے۔ اگر ہندوؤں اور مسلمانوں کے ایک ساتھ آنے کی بات ہے تو ہم آر ایس ایس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم دونوں متحدہ قومیت پر نظریہ ایک جیسا ہےـ حضرت کی نیک نیتی پر مبنی خوش فہمی اپنی جگہ’ وہ یہ بخوبی جانتے ہوں گے کہ آر ایس ایس اس زمین کو بھارت ماتا سمجھتی ہے اسے پوجتی ہے اور اس کے نزدیک بھارت میں رہنے والے سب ہندو ہیں خواہ کوئی مذہب مانتے ہوں ـ اس کا راشٹر ہندو سنسکرتی’ کے ساتھ مکمل ہوتا ہے ،انہوں نے ان دنوں یہ بھی صاف کردیا کہ بھارت ہندو راشٹر ہے ،جو مانے فائدے میں رہے گا جو نہ مانے وہ نقصان میں ہوگا-
مولانا ارشد مدنی دامت برکاتہم نے سنگھ اور بھاگوت کی تبدیلی قلب پر جس اعتماد و یقین اور بھروسہ کا اظہار کیا ہے وہ نیا نہیں ہے ـ جب حضرت نے آٹھ سال قبل بھاگوت جی سے ‘خاموش’ ملاقات کی تھی اس وقت بھی اسی امید کا اظہار کیا تھا ـ مولانا نے مرکزی حکومت اور فرقہ پرست طاقتوں کی خبر لی ہے مگر کیا مرکزی حکومت اور سنگھ الگ ہیں؟ ، ـ یوپی کے وزیراعلی کس کی پسند ہیں اور وہ جو کچھ کررہے ہیں وہ کونسا بھائی چارہ ہے؟ ، اگر ان کا دل بدل گیا ہے تو وہ یوگی کا ہاتھ کیوں نہیں پکڑتے ؟ بی جے پی کی زیر قیادت ریاستی سرکاریں مسلمانوں کے ساتھ کس بھائی چارے کا اظہار کررہی ہیں؟ ،سب سے زیادہ بلڈوزر کہاں چل رہے ہیں؟ کئی وزرائے اعلیٰ تو سوئم سیوک رہے ہیں ،جس محبت کا اظہار کیا جارہا ہے وہ اپنے ان سوئم سیوک سے کیوں نہیں کہتے کہ مسلمانوں سے اسی رویے کا مظاہرہ کریں جس کا کا تصور وگیان بھون سے پیش کیا گیا ـآر ایس ایس کی سرپرستی اور حمایت یافتہ تنظیمیں ہی مسلمانوں کے خلاف نفرت کیوں پھیلاتی ہیں؟۔کون نہیں جانتا کہ مودی جی کے دور میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ادارہ جاتی شکل دی گئی ہے وہ کس کی پسند سے لائے گیے تھے؟ ۔ بھاگوت جس ‘بھائی چارے’ کی بات کررہے ہیں ان کا مطلوب’ ومقصود کیا ہے ،ان کی ہندو کی تعریف اور ہندو راشٹر کا تصور ان کے ‘گروجی’ سے کتنا الگ ہے اگر ایک بار ‘گرو جی’ کی کتابوں کا مطالعہ کرلیا جائے جس میں مسلمانوں سے ‘نمٹنے’ کی تراکیب ہیں اور مغربی یوپی کے بارے میں کیا کیا لکھا ہے تو بھائی چارے کا ‘وسیع مفہوم’ معلوم ہو جائے گا
بھاگوت جی یا آرایس ایس کے بارے میں یہ سوچنا کہ وہ اپنے کور ایجنڈے میں نرمی لائیں گے، خوش فہمی اور سادہ لوحی کے علاؤہ کچھ ،جب بیرونی طور پر اس کی امیج اور ساکھ پر سوالیہ نشان لگتے ہیں تو نرم ملائم شبنمی لہجے میں باتیں کی جانے لگتی ہیں ـ بھاگوت جی موقع کے لحاظ سے لہجہ بدلتے ہیں ،وہ مسلمانوں کو مشورہ دے چکے ہیں کہ کاشی متھرا سونپ دیں پھر اس پر ڈائیلاگ کی پیش کش کرتے ہیں ، ملک میں اسلاموفوبیا انتہا کو چھو رہا ہے ،یہ کس کی’کرم فرمائی’ ہے ؟حضرت سے زیادہ کون جانتا ہوگا ـ آر ایس ایس وکٹ اور پچ کی کنڈیشن کے حساب سے بالنگ کرتا ہےـ کب فاسٹ بالنگ کرنی ہے کب اسپن ،کب گگلی پھینکنی ہے اور کب یارکر ڈالنا ہے ،اس کے پاس ہرقسم کے بالر ہیں ـ ہمارے پاس کیا تیاری ہے نہ علمی سطح پر نہ ہی عملی ،نہ کوئی خاکہ نہ روڈمیپ، ہے تو بس جلسے،کانفرنسیں اور بیانات
حضرت نے تو ان بیانات کی گونج ختم ہونے سے پہلے ہی جس طرح اس کا خیر مقدم کیا اور اپنی طرف سے ملاقات کی پیشگی خواہش ظاہر کردی وہ ان کی سادہ دلی کا نتیجہ ہے اگر ان کو لگتا ہے کہ آر ایس ایس میں بدلنے کا رجحان ہے وہ واقعی بھائی چارہ چاہتا ہے تو اس کی طرف سے عملی اقدام کا انتظار کرنے میں کوئی ہرج یا نقصان نہیں تھا ـ ـ سنگھ دھیرے چلتا ہے تو بے تابی دکھانے و جلد بازی کی کیا حکمت ہے ؟ بلا شبہ مذاکرات اور ڈائیلاگ سے ہی نتائج ۔نکلتے ہیں ـ مگر یاد رکھنا ہوگا کہ جب ‘اٹھ سال قبل ‘امیر الہند ‘خاموشی سے بھاگوت سے ملنے گیے تھے, اس وقت بھی آپ نے فرمایا تھا کہ سنگھ خود کو بدل رہا ہے ،اس کے رویے میں تبدیلی آرہی ہے ۔مگر جو نتائج سامنے آئے انہوں نے مولانا کی تائید نہیں کی اب پھر حضرت کو سنگھ اور بھاگوت جی سے امیدیں ہیں ، اور بھاگوت کو مدعو کرنا چاہتے ہیں ،چند ماہ قبل مسلم جماعتوں کی سنگھ کے ساتھ ملاقاتیں لاحاصل رہی ہیں کیونکہ سنگھ سمجھانا چاہتا ہے،سمجھنا نہیں ـ مسلمانوں کو بے وزن کرنے میں جتنا رول سنگھ اور بی جے پی کا ہے اس سے کہیں زیادہ ہمارے رہنماؤں کی بے سمت پالیسیوں کا ہے ـ آپ مول تول اور بھاؤ تاؤ کی پوزیشن میں ہیں ہی نہیں ،وہ سنائیں گے اور ہم سنیں گے ورنہ اپنے گھر بیٹھیےـ اس وقت غیر ملکیوں ،دراندازوں اور ڈیمو گرافی بدلنے کی سازش کے الزامات کی آڑ میں sir کا اصل نشانہ کون ہیں اور یہ کس کا ایجنڈہ ہے؟سنبھل ایپی سوڈ کیوں شروع ہوا ،سوئم سیوکوں کو متھرا کاشی آندولن میں شرکت کے لیے بھاگوت کے ہری جھنڈی دکھانے کے کیا اثرات ہوں گے بابری مسجد کا انجام یاد کرلیا جائے ، ہم بہت کمزور پچ پر ہیں ، ـ معاف کیجیے گا مولانا محترم جو کچھ سوچ رہے وہ ان کی اور جمعیتہ کے معزز ارکان کی رائے اور خواہش ہوسکتی ہے پوری کمیونٹی کی نہیں، وہ ایسے بیانات سے بے چینی محسوس کررہی ہے ـ
،بہرحال ابھی بھاگوت جی کا اس پیشکش ہر کوئی ردعمل نہیں آیا ہے ،ایے گا بھی نہیں ،وہ مولانا سے دوسری وعدہ شدہ ملاقات کے لیے آٹھ برس سے انتظار کرارہی ہے جس کا شکوہ خود حضرت نے کیا ،وہ خاموش رہ کر کام کرتی ہے ـ آر ایس ایس لمبے چوڑے بیانات ، جلسے بازیوں،فوٹو سیشن،بڑی بڑی خبریں چھپوانے اور پریس ریلیزوں پر یقین نہیں رکھتی اور ہمارے یہاں سارا کاروبار ہی اسی پر ٹکا ہے ـ



