بھارت کا سب سے قریبی پڑوسی اور اس کے ساتھ روٹی بیٹی کا رشتہ رکھنے والا نیپال ان دنوں سیاسی اتھل پگھل اور غیر یقینی کے دور سے گزر رہا ہے ،اس دوران لوگوں کی توجہ نیپال کے سماجی اور مذہبی ڈھانچے کی طرف بھی گئی ہے۔ خاص طور پر یہ سوال سامنے آیا ہے کہ نیپال میں کتنے ہندو اور کتنے مسلمان ہیں۔ ان کی سماجی، سیاسی اور معاشی حالت کیا ہے؟ تو آئیے جانتے ہیں نیپال میں کتنے ہندو اور مسلمان رہتے ہیں، ان کی آبادی کیا ہے اور معاشرے میں ان کا مقام کیا ہے۔
نیپال کی 2021 کی مردم شماری کے مطابق ملک کی کل آبادی 2.97 کروڑ کے لگ بھگ ہے جس میں کل آبادی کا 81.19 فیصد ہندو ہے، یعنی تقریباً 2 کروڑ 36 لاکھ لوگ ہندو مذہب کو مانتے ہیں۔ نیپال کبھی دنیا کی واحد ہندو قوم تھا لیکن اب یہ ایک سیکولر ملک بن چکا ہے۔ تاہم ہندو آبادی میں 2011
کے مقابلے میں معمولی کمی آئی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ مسلمان نیپال میں تیسری بڑی مذہبی آبادی ہیں۔ 2021 کی مردم شماری کے مطابق 5.09 فیصد لوگ مسلمان ہیں۔ یعنی تقریباً 14 لاکھ 83 ہزار لوگ اسلام کی پیروی کرتے ہیں۔ 2011 میں یہ تعداد 4.4 فیصد تھی جو اب بڑھ کر 5.09 فیصد ہو گئی ہے یعنی 0.69 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ زیادہ تر سنی مسلمان نیپال میں رہتے ہیں اور وہ بنیادی طور پر ترائی کے علاقے میں آباد ہیں جو کہ ہندوستان کی سرحد سے متصل علاقہ ہے۔ یہاں 95 فیصد مسلم آبادی رہتی ہے۔
نیپال میں دوسری آبادی اور مذاہب کے بارے میں اہم باتیں:نیپال میں بدھ مت دوسرا بڑا مذہب ہے۔ نیپال بدھ کی جائے پیدائش ہے، اس لیے یہاں بدھ مت کا بھی بہت اثر ہے۔ جس میں کل آبادی کا 8.2 فیصد بدھ مت کو مانتے ہیں۔ ان کی تعداد 23 لاکھ 94 ہزار کے لگ بھگ ہے۔ ساتھ ہی، گزشتہ چند سالوں میں بدھ مت کی آبادی میں 0.79 فیصد کمی آئی ہے۔ اس کے علاوہ نیپال کی اصل قبائلی برادریوں میں کرات مذہب کی پیروی کی جاتی ہے۔ مردم شماری میں اس کا حصہ تقریباً 3 فیصد سے بھی کم ہے۔ اس مذہب میں 0.17 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ نیپال میں عیسائیوں کی آبادی اب بھی بہت کم ہے لیکن گزشتہ دہائی میں اس میں 0.36 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ نیپال اب بھی ہندو اکثریتی ملک ہے لیکن گزشتہ برسوں میں واضح طور پر دیکھا گیا ہے کہ یہاں مذہبی تنوع بڑھ رہا ہے۔میڈیا رپورٹس کے ان پٹ کے ساتھ








