پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اہم معاہدہ طے پا گیا ہے۔ دونوں ممالک نے "اسٹریٹجک باہمی دفاع” کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت ایک ملک پر حملہ دونوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ ہندوستان کی خبر کے مطابق اسرائیل نے اس معاملے پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ بھارت اور ہماری (اسرائیل) کی وجہ سے طے پایا ہے۔ تاہم اسرائیل نے اس معاہدے کو قبول نہیں کیا ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ "انتظار کرو اور دیکھو” کی پوزیشن میں ہے۔ دوسری جانب امریکا نے بھی اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا جس سے خلیجی ممالک کی طویل مدت میں سلامتی کی ضمانت دی گئی ہو۔
نئے فوجی اتحاد کے بارے میں کافی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اس کا اثر مشرق وسطیٰ سے لے کر ایشیا تک پھیلے گا۔ ممالک کے درمیان فوجی اتحاد کے لیے مسابقت بڑھ سکتی ہے، ممکنہ طور پر علاقائی توازن کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔ بھارت بھی اس سے محفوظ نہیں رہے گا۔ بھارت پہلے ہی اس دفاعی معاہدے کی نگرانی کر رہا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اس دفاعی معاہدے سے پہلے ہی واقف تھا۔
ترجمان نے کہا، "ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کی اطلاعات دیکھی ہیں۔ ہندوستانی حکومت کو معلوم تھا کہ اس دفاعی معاہدے کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ہم اس معاہدے کے مضمرات کا اپنے قومی مفادات اور علاقائی اور عالمی استحکام کے تناظر میں مطالعہ کریں گے۔حکومت ہندوستان کی قومی سلامتی کے ہر شعبے میں قومی سلامتی کے تحفظ کیلے پرعزم ہے۔”
پاک سعودی معاہدے میں کیا ہے؟
بدھ کو جاری ہونے والے مشترکہ بیان کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستانی رہنما کے خلیجی ملک کے ایک روزہ دورے کے دوران اس معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ خلیجی خطے میں امریکہ کے اہم اتحادی قطر میں حماس کی قیادت پر اسرائیلی حملے کے چند روز بعد ہوا ہے۔
اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ایک ملک پر حملہ دونوں کے خلاف سمجھا جائے گا۔ یہ معاہدہ سلامتی کو بڑھانے اور خطے اور دنیا میں امن و سلامتی کے حصول کے لیے دونوں ممالک کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کا مقصد دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ ڈیٹرنس کو مضبوط بنانا ہے۔
پاکستان سعودی مشترکہ بیان کے مطابق یہ معاہدہ تقریباً آٹھ دہائیوں پرانی تاریخی شراکت داری، بھائی چارے، اسلامی یکجہتی، مشترکہ سٹریٹجک مفادات اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی دفاعی تعاون پر مبنی ہے۔ دونوں فریقوں نے تاریخی اور سٹریٹجک تعلقات اور مشترکہ دلچسپی کے مختلف شعبوں کا جائزہ لیا۔









