منی پور کے بشنو پور ضلع میں جمعہ کی شام نامعلوم مسلح افراد نے آسام رائفلز کی گاڑی پر گھات لگا کر حملہ کیا، جس میں دو جوان ہلاک اور چار دیگر زخمی ہو گئے۔ حملہ شام چھ بجے کے قریب ہوا۔ نمبول سبل لیکائی علاقے میں جب آسام رائفلز کے اہلکار امپھال سے بشنو پور جا رہے تھے۔
اہلکاروں کو لے جانے والی آسام رائفلز کی گاڑی نمبول سبل لیکئی میں ایک مصروف سڑک پر سفر کر رہی تھی جب نامعلوم حملہ آوروں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ ذرائع کے حوالے سے کچھ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ دھماکہ خیز ڈیوائس استعمال کی گئی ہو، جس کے بعد شدید فائرنگ کی گئی۔ حملے میں دو فوجی موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ چار دیگر شدید زخمی ہو گئے۔ زخمی فوجیوں کو مقامی پولیس اور شہریوں کی مدد سے فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔ حکام نے بتایا کہ حملہ آور، جو سفید رنگ کی وین میں سوار تھے، حملے کے بعد موقع سے فرار ہوگئے۔ ابھی تک کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔حملے کے فوراً بعد منی پور پولیس اور آسام رائفلز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر تلاشی مہم شروع کی۔ پولیس نے پورے علاقے کو سیل کر دیا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ فوج نے بھی اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور شہید فوجیوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
اس حملے کے بعد منی پور میں کشیدگی کا ماحول ہے۔ مقامی آبادی میں خوف اور غصہ پایا جا رہا ہے۔ منی پور کے گورنر اجے کمار بھلا نے اس پرتشدد واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ کارروائی قرار دیا ہے۔منی پور میں باغی سرگرمیاں اور نسلی کشیدگی ایک طویل عرصے سے ایک سنگین مسئلہ رہا ہے۔ آسام رائفلز اور دیگر سیکورٹی فورسز پر ماضی میں کئی بار حملے ہو چکے ہیں۔ خاص طور پر پیپلز لبریشن آرمی اور دیگر عسکریت پسند گروپس، جیسے منی پور ناگا پیپلز فرنٹ، نے ایسے حملے کیے ہیں۔ 2021 میں، چورا چند پور ضلع میں ہونے والے ایک حملے میں آسام رائفلز کے کمانڈنگ آفیسر، اس کی بیوی اور بیٹے سمیت سات افراد ہلاک ہوئے۔








