نئی دہلی:تجزیاتی رپورٹ ،آر کے بیورو
مشرق وسطیٰ کے بدلتے ہوئے منظر نامے میں سعودی عرب اپنی سفارتی چالوں کی بدولت طاقتور ترین ملک بن کر ابھرا ہے۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران سعودی عرب نے شطرنج کے کھیل کی طرح اپنی چالیں چلاتے ہوئے اسرائیل کو شکست دی ہے۔ جہاں سعودی عرب کی چالبازیوں کی وجہ سے اسرائیل عالمی سطح پر تنہا ہو گیا ہے وہیں سعودی عرب پاکستان کے ساتھ معاہدہ کر کے خلیج کا سب سے محفوظ ملک بن گیا ہے۔
سعودی عرب رقبے کے لحاظ سے مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا ملک ہے۔ سعودی عرب کا رقبہ کل 2,150,000 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ اس کی سرحدیں اردن، عراق، کویت، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان اور یمن سے ملتی ہیں۔ اس کی سمندری سرحدیں بحیرہ احمر اور خلیج فارس کے ساتھ بھی ملتی ہیں۔
قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد سعودی عرب کو اپنی سرحدوں پر تشویش لاحق ہوگئی تھی ۔ سعودی عرب کو طویل عرصے سے امریکہ کی طرف سے سیکورٹی کور حاصل ہے لیکن قطر کے حملے نے امریکی کارروائیوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے۔ سعودی نے فوری طور پر پاکستان کے ساتھ معاہدہ کیا۔
سعودی پاکستان دفاعی معاہدے کے مطابق کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ پاکستان ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ملک ہے۔ اس لیے اگر پاکستان کسی تنازع میں مداخلت کرتا ہے تو ایٹمی جنگ کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ اسرائیل ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ملک ہے۔پاکستان کا ساتھ لے کر سعودی عرب نے اپنی سرحد محفوظ کر لی ہے۔ اس کے بدلے میں سعودی عرب پاکستان کے ریلوے، صحت اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرے گا۔ پاک سعودی معاہدے نے سعودی عرب کو خلیج کا سب سے محفوظ ملک بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ڈیل نے گریٹر اسرائیل کے منصوبوں کو بھی ناکام بنا دیا ہے۔
• دو ریاستی مہم سے بے دم اسرائیل
اسرائیل اور حماس کی جنگ میں نیتن یاہو کی افواج کو فائدہ ہوا تھا لیکن سعودی عرب نے دو ریاستی مہم شروع کی۔ سعودی عرب کا مؤقف تھا کہ مشرق وسطیٰ میں امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک فلسطین کو علیحدہ ملک تسلیم نہیں کیا جاتا۔اس سعودی مہم کو فرانس، اور اب برطانیہ، کینیڈا، پرتگال اور آسٹریلیا جیسے ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ فلسطینی ریاست کے حوالے سے صرف امریکہ اسرائیل کے ساتھ ہے۔ برطانیہ اور فرانس جیسے ممالک کی طرف سے سرزنش کو اسرائیل کی سفارتی شکست قرار دیا جا رہا ہے۔
اگر فلسطین الگ ملک بن گیا تو آنے والے سالوں میں اسرائیل کی صورتحال مشکل ہو جائے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فلسطین کی اپنی فوج ہوگی اور اسے ہتھیار رکھنے کی بھی اجازت ہوگی۔
٫•• ایران کو بھی سادھ لیا
سعودی عرب نے ایران کو بھی سادھ لیا۔ دونوں کے درمیان سیکورٹی پر بات چیت ہوئی ہے۔ حالانکہ سعودی عرب اور ایران پردے کے پیچھے تلخ دشمن ہیں۔ وہ تیل پر اختلاف رکھتے ہیں۔ ایران کی پراکسی، حوثی، سعودی عرب کے لیے خطرہ ہے۔ حوثی سعودی تیل کمپنیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ان سب کے باوجود چین کے ذریعے اس کی ایران سے دوستی ہوگئی








