سیتا پور جیل سے رہا ہونے کے بعد ایس پی لیڈر اعظم خان جذباتی نظر آئے۔ جیسے ہی وہ باہر آئےانہوں نے کہا ، "پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے ۔” وہ بی ایس پی میں شامل ہونے کی قیاس آرائیوں پر خاموش رہے اور کہا کہ ان کے پاس کوئی اس۔ کا کوئی جواب نہیں ہے۔ اعظم خان نے مزید کہا کہ اب وہ علاج کرائیں گے اور اپنی صحت پر توجہ دیں گے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اس کے بعد ہی وہ اپنے اگلے اقدامات کا فیصلہ کریں گے۔
اعظم خان نے شاہجہان پور پہنچنے پر سب کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ میرے اوپر ان کا احسان ہے جو میرا ساتھ دیتے رہے۔ بی ایس پی میں شامل ہونے کی قیاس آرائیوں کے بارے میں انہوں نے کہا، "اس کا جواب صرف وہی لوگ دے سکتے ہیں جو قیاس آرائیاں کر رہے ہیں۔ میں جیل میں کسی سے نہیں ملا۔ مجھے فون کال کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ میں پچھلے پانچ سالوں سے مکمل طور پر رابطہ سے باہر ہوں۔”اعظم خان 23 ماہ بعد رام پور میں اپنے گھر پہنچے۔ ان کی آمد سے قبل ہی حامیوں کی بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر جمع ہو چکی تھی۔ قافلے کے آتے ہی پارٹی کارکنان پرجوش ہوگئے اور نعرے بازی شروع کردی۔ حامیوں نے پھولوں کے ہار پہنا کر اعظم کا استقبال کیا۔ جائے وقوعہ پر پولیس تعینات رہی۔
ادھر سماج وادی پارٹی کے صدر اور سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے اعظم خان کی رہائی کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس پی کی حکومت بننے پر اعظم خان کے خلاف درج تمام جھوٹے مقدمات واپس لے لیے جائیں گے۔ بی جے پی حکومت پر نشانہ لگاتے ہوئے اکھلیش نے کہا کہ مستقبل میں کوئی نیا جھوٹا کیس نہیں ہونا چاہئے اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے اے این آئی کو بتایا کہ اعظم خان سماج وادی پارٹی اور نیتا جی کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے بی جے پی کے خلاف طویل جنگ لڑی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہر جھوٹا کیس ختم ہو جائے گا۔ جس طرح وزیر اعلیٰ یوگی اوران کے نائب وزیر اعلیٰ نے بی جے پی لیڈروں کے خلاف مقدمات واپس لیے، اسی طرح جب ہماری حکومت آئے گی تو اعظم خان کے خلاف درج جھوٹے مقدمات کو بھی واپس لے لیا جائے گا۔ اعظم خان کے بی ایس پی میں شامل ہونے کی باتوں کے بارے میں اکھلیش نے واضح کیا کہ یہ محض افواہ ہے۔بہرحال دیکھنا ہے کہ آنت والے دنوں میں سیاست کروٹ لیتی ہے








