خراج عقیدت: عبدالحفیظ ظفر
ہندوستان کی آزادی کیلئے بے شمار افراد نے قربانیاں دیں۔ ان قربانیوں کی بدولت ہی ہندوستان کو انگریزی اسعتمار سے نجات ملی۔ بھگت سنگھ‘ راج گرو اور سکھ دیو کا نام بہت مشہور ہے۔ کوئی شک نہیں کہ یہ حریت پسند تھے اور انہوں نے آزادی کیلئے جان کا نذرانہ دیا۔ یہ لوگ تو خیر اپنی جگہ تھے لیکن ان کے ساتھ ایک نام اور بھی تھا جس کا نام تھا اشفاق اللہ خان۔ ہندوستان میں بھگت سنگھ اور دیگر لوگوں کو تو یاد کیا جاتا ہے مگر افسوس کہ اشفاق اللہ خان کا نام نہیں لیا جاتا۔22 اکتوبر 1900ء کو اترپردیش کی شاہ جہاں پور میں پیدا ہونے والے اشفاق اللہ خان صحیح معنوں میں حریت پسند تھے۔ انہوں نے تحریک آزادی کیلئے بہت کام کیا اور پھر اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کر دیا۔ انہوں نے اپنے دوست رام پرشاد بسمل کے ساتھ مل کر ہر لڑائی لڑی۔ اشفاق اللہ خان شاعری بھی کرتے تھے اور ان کا تخلص حسرت تھا۔اشفاق اللہ خان کے والد شفیق اللہ خان کا تعلق مغل خاندان سے تھا۔ ان کی والدہ ظہورالحسن نسا بیگم بہت خدا ترس خاتون تھیں۔ اشفاق اللہ خان اپنے چار بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان کے بڑے بھائی ریاست اللہ خان پنڈت رام پرشاد بسمل کے ہم جماعت تھے۔ ریاست اپنے چھوٹے بھائی اشفاق کو بسمل کی بہادری اور شاعری کے متعلق بتایا کرتا تھا۔ 1920ء کو جب بسمل شاہ جہان پور آئے تو اشفاق نے اس سے رابطہ کرنے کی بہت کوشش کی لیکن بسمل نے کوئی جواب نہ دیا۔ 1922ء میں جب تحریک عدم تعاون کا آغاز ہوا تو بسمل نے شاہ جہان پور میں جلسوں کا انعقاد کیا جس میں لوگوں کویہ بتایا کہ ان کی تحریک کا مقصد کیا ہے۔ اشفاق اللہ کی بسمل سے ملاقات ایک جلسے میں ہوئی اور انھیں بتایا کہ وہ ان کے دوست کےبھائی ہیں ۔ پھر اشفاق اللہ خاں نے انھیں اپنی شاعری سنائی۔ بسمل کو اشفاق کی شاعری پسند آئی اور وہ دونوں دوست بن گئے۔اشفاق اللہ خان کی زندگی میں اہم موڑ اس وقت آیا جب مہاتما گاندھی نے تحریک عدم تعاون ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ ان کا خیال تھا کہ بھارت کو فوری طور پر آزادی حاصل کر لینی چاہئے۔ اسی لئے انہوں نے انقلابیوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ پنڈت بسمل کا تعلق آریہ سماج سے تھا جبکہ اشفاق اللہ خان پکے مسلمان تھے‘ لیکن یہ حقیقت ہے کہ بسمل نے بھی مذہبی تعصب کا مظاہرہ نہیں کیا۔ انقلابیوں نے محسوس کیا کہ عدم تشدد جیسے نرم الفاظ سے بھارت آزادی حاصل نہیں کر سکتا۔ اس لیے انہوں نے مسلح جدوجہد کا فیصلہ کیا اور بموں‘ ریوالورز اور دوسرا اسلحہ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ برطانوی سلطنت بہت بڑی تھی لیکن انقلابیوں کا جذبہ دیدنی تھا۔ وہ بالکل نہیں گھبرائے اور انہوں نے یہ مصمم ارادہ کر لیا کہ وہ ہر صورت لڑیں گے۔ اب اس انقلابی تحریک کو فنڈز کی بھی ضرورت تھی۔ ایک دفعہ شاہ جہان پور سے لکھنو کی طرف سفر کے دوران پنڈت بسمل نے محسوس کیا کہ سٹیشن ماسٹر نوٹوں کے تھیلے لا رہا ہے۔ یہ سرکار کا پیسہ تھا۔ بسمل نے اس پیسے کو لوٹنے کا فیصلہ کیا اور اسے گورنمنٹ کے خلاف استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ ’’کاکون ٹرین روبری‘‘ کا آغاز تھا۔9 اگست 1925ء کو اشفاق اللہ خان اور آٹھ دوسرے انقلابیوں نے پنڈت رام پرشاد بسمل کی قیادت میں ٹرین کو لوٹ لیا۔ دوسرے انقلابیوں راجندر لہری‘ سخہدر ناتھ بخشی‘ چندر شیکھر آزاد‘ کیشاب چکرورتی‘ مکنڈی ال‘ من ماتھ ناتھ گپتہ اور مواری لال شامل تھے۔اس واقعے نے برطانوی حکومت کو ششدر کر دیا۔ وائسرائے نے اس واقعے کی تحقیقات کیلئے سکاٹ لینڈ یارڈ کو حکم دیا۔ ایک ماہ کے اندر سی آئی ڈی نے تمام حقائق جمع کر لئے۔ پنڈت بسمل اور دیگر کو شاہ جہان پور سے گرفتار کر لیا لیکن اشفاق کو پولیس پکڑ نہ سکی۔ اشفاق بنارس چلے گئے جہاں سے انہوں نے بہار کی راہ لی۔ بہار میں اشفاق اللہ ایک انجینئرنگ کمپنی میں دس ماہ تک کام کرتے رہے۔ وہ بیرون ملک جانے کے بھی آرزو مند تھے تاکہ تحریک آزادی کی جدوجہد میں ان سے مدد حاصل کی جا سکے۔ انہوں نے اپنے ایک دوست کی مدد بھی حاصل کی جس نے اشفاق اللہ سے غداری کی اور پولیس کو مخبری کر دی جس نے اشفاق کو گرفتار کر لیا۔ اشفاق اللہ کو فیض آباد میں نظر بند رکھا گیا۔ انہیں ان کے ساتھیوں کے ساتھ سزائے موت سنا دی گئی۔ایک چشم دید گواہ کے مطابق پھانسی سے چار دن پہلے چار انگریز افسران کے ڈیتھ سیل کی طرف آئے۔ وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ چار دن بعد جب ان کو زنجیروں سے آزاد کیا گیا اور پھانسی گھاٹ کی طرف لے جایا گیا تو ان کے چہرے پر ہر گز گھبراہٹ کے آثار نہیں تھے۔ انہوں نے پھانسی کے پھندے کو چوما۔ انہوں نے اس موقع پر یہ کہا ’’میرے ہاتھ کسی انسان کے خون سے رنگے ہوئے نہیں ہیں۔ میرے خلاف تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔ اللہ مجھے انصاف دے گا‘‘۔اور پھر اشفاق اللہ خان نے ہنستے مسکراتے موت قبول کر لی۔ آزادی کیلئے ان کی قربانی ہمیشہ یاد رہے گی۔
پیاز کے چھلکے کی فیس بک وال سے








