بریلی تشدد کیس میں یوپی سرکار نے اپنے روایتی اور معروف انداز میں کام کرنا شروع کردیا ہے ،مٹلا فساد میں کسی کو ماسٹر مائنڈ بنانا،اس کے تار مختلف جگہوں سے جوڑنا ،سخت دفعات میں مقدمہ قائم کرنا اور نزدیکیوں کے خلاف سخت ایکشن لینا وغیرہ اب مولانا توقیر رضا کے ساتھیوں کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کر دیا ہے۔ انتظامیہ نے فائیو انکلیو کے مالک کے چار لگژری ہوٹلوں کو سیل کر دیا ہے جہاں مولانا توقیر رضا چمرہے تھے اسی کے ساتھ ۔ بلڈوزر آپریشن بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ اس معاملے میں اب تک 27 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
مءڈیا میں آئی رپورٹ کے مطابق بریلی انتظامیہ نے تشدد کے بعد بڑی کارروائی کرتے ہوئے مولانا توقیر رضا کے قریبی ساتھیوں عارف اور ان کی اہلیہ آصفہ کے نام پر کروڑوں روپے کے ہوٹل "اسکائی لارک” اور "فیم لان” کو سیل کر دیا ہے۔انتظامیہ کی ٹیم توقیر رضا کے قریبی ساتھی فرحت کی ملکیت والے ہوٹل کا سروے کرنے بریلی پہنچی۔ مولانا فرحت کے گھر پر تھے۔ فرحت کے ہوٹل کے خلاف کارروائی کی تیاریاں جاری ہیں۔ ۔نے ہوٹل کو سیل کر دیا ہے جو فرحت کے بھائی کی اہلیہ کے نام پر رجسٹرڈ تھا۔ اس ہوٹل سے ملحقہ ایک اور ہوٹل کو بھی سیل کر دیا جائے گا۔
دوسری جانب انتظامیہ تشدد کیس میں مسلسل گرفتاریاں کر رہی ہے۔ اتوار کو پولیس نے مزید 12 ملزمان کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا۔ اس معاملے میں اب تک مولانا توقیر رضا سمیت 27 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتاری کے بعد ملزموں نے میڈیا دعوے کے مطابق ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لی۔ مولانا توقیر رضا کے ایک اور قریبی ساتھی ندیم خان مفرور ہیں۔ پولیس ان کی بھرپور تلاش کر رہی ہے۔ ان کے گھر کو تالا لگا ہوا ہے








