اتواریہ: شکیل رشید
بریلی میں ’ آئی لو محمد ﷺ ‘ کی ریلی پر پولیس کی لاٹھیاں کیوں برسیں ؟ اس سوال کا جواب پانے کے لیے ’ راکٹ سائنس ‘ سے واقفیت ضروری نہیں ہے ۔ اترپردیش ( یو پی ) کی یوگی آدتیہ ناتھ کی سرکار مسلمانوں کو ’ سبق ‘ سکھانا چاہتی تھی ، لہذا پولیس کو کھلی چھوٹ دے دی گئی تھی کہ ’ جم کر لاٹھیاں بھانجو ‘ ، اور پولیس نے چھوٹ پر مکمل طور پر عمل کیا ۔ کوئی یہ سوال بھی دریافت کر سکتا ہے کہ ’ سبق ‘ کیسا اور کس لیے ؟ اس سوال کا جواب بھی مشکل نہیں ہے ۔ ’ سبق ‘ پٹائی کا ، کارروائی کا ، جیل بھیجے جانے کا ، اور خوف اور ڈر کی نفسیات میں مبتلا کرنے کا ۔ یہ ذہن نشین کرانے کے لیے کہ ’ ہم تمہیں اُس شخصیت کا نام تک نہیں لینے دیں گے جو تمہارے لیے پاک ہے ، اور جسے تم سب سے عظیم سمجھتے ہو ۔‘ یو پی کے وزیراعلیٰ یوگی کے دماغ پر ’ اقتدار ‘ کا نشہ کس قدر چڑھ گیا ہے ، اس کا اندازہ ان کے روزمرہ کے ’ اعمال ‘ اور ’ بیانات ‘ سے خوب ظاہر ہو جاتا ہے ۔ اُن کی زبان کھلتی ہے تو مسلمانوں کے خلاف نفرت کے بول سے بھری ہوتی ہے ۔ یوگی چاہ کر بھی اپنی زبان کو نفرت کی بھاشا بولنے سے روک نہیں سکتے ، کیونکہ نفرت کا عنصر ان کے خمیر کا حصہ بن چکا ہے ۔ اور ان کا ضمیر اس قدر آلودہ ہو چکا ہے کہ مسلمانوں کو ’ سبق ‘ سکھانے کے لیے وہ ہر وہ کام کر سکتے ہیں جس کی کسی بھلے آدمی سے توقع نہیں کی جا سکتی ہے ۔ جمعہ کے روز بریلی میں جو کچھ ہوا اُس کا سارا الزام مولانا توقیر رضا خاں پر عائد کر کے انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ اور لگتا ہے کہ مولانا توقیر رضا خاں کو جلد رہائی نہیں مل پائے گی ۔ اس لیے کہ یوگی انہیں بھی اس بار ’ سبق ‘ سکھانے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں ۔ یوگی کے بول دیکھیں : ’’ مولانا بھول گیا تھا کہ کِس کی حکومت ہے ، ایسا سبق سکھائیں گے کہ نسلیں فساد کرنا بھول جائیں گی ۔‘‘ یوگی پارلیمنٹ میں ایک بزدل کی طرح رونا بھولے نہیں ہوں گے ، ان کا رونا اس لیے تھا ، کہ اس وقت کی ملائم سنگھ یادو کی حکومت نے ’ غیر قانونی اور غیر آئینی حرکتوں ‘ پر اُن کی بندش کی تھی ، اور یو پی کی پولیس ہی تھی جو ان کے پیچھے لگائی گئی تھی ۔ ان دنوں یوگی رکن پارلیمنٹ تھے ، اس کے باوجود پولیس کی چند معمولی قسم کی کارروائیوں کو جھیل نہیں سکے تھے ۔ لیکن آج جب اقتدار پر متمکن ہیں تو مسلمانوں اور اپنے سیاسی حریفوں کے پیچھے اپنی پولیس لگا کر یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ بڑے بہادر ہیں ! اللہ رب العزت کا قانون ہے کہ زمانہ بدلتا رہتا ہے ، بادشاہ ہمیشہ بادشاہ نہیں رہتا ، ایک دن — بھلے وہ دن دیر سے آئے — بادشاہ کو اپنا تخت خالی کرنا پڑتا ہے ۔ اور یوگی کا جانا تو یقینی ہے ، کیونکہ معاملہ حضرت محمد ﷺ کا اور نبی ﷺ سے محبت کرنے والوں کا ہے ۔ کوئی ڈرنے والا نہیں ہے ، توقیر رضا خاں کو گرفتار کرلیا ، لیکن دوسروں کی زبانیں بند نہیں کر سکتے ۔ منوّر رانا کی صاحب زادی سمیّہ رانا نے سخت لہجے میں یوگی کو للکارا ہے ، کہا ہے ’ یوگی کی زبان ہی ان کی پہچان ہے ۔ ‘ اور یہ سچ بھی ہے ، ہر انسان اپنی زبان سے پہچانا جا سکتا ہے کہ وہ کیسا ہے ۔ مزید ایک بات ؛ ’ آئی لو محمد ﷺ ‘ کو مسلمان سڑکوں پر اُسی وقت لائیں جب انہیں یہ یقین ہو کہ ظالم حکمراں ’ سبق ‘ سکھانے کی کوشش نہیں کریں گے ، کیونکہ ہوتا یہ ہے کہ لوگ سڑکوں پر اترتے ہیں ، پولیس کی لاٹھیاں کھاتے ہیں ، زخمی ہوتے ہیں ، اور اگر گولیاں چلیں تو شہید ہوتے ہیں ، ایف آئی آر بنتی ہے ، اور نوجوان برسوں کے لیے سلاخوں کے پیچھے ڈھکیل دیے جاتے ہیں ، اور عدالت سے انہیں انصاف اسی وقت ملتا ہے جب ان کی عمریں ڈھل چکی ہوتی ہیں ۔ نوجوانوں کو ان مصائب سے محفوظ رکھنا ہوگا ، لہذا یہ ضروری ہے کہ سڑکوں پر اسی وقت اترا جائے جب یہ مکمل یقین ہو کہ ریلی یا مظاہرہ اور احتجاج پُر امن رہے گا ، کسی طرح کی شرانگیزی نہیں ہوگی ۔ ویسے یہ ممکن نہیں ہے ، بہت احتیاط کی ضرورت ہے ، کیونکہ شرانگیزی ’ کرائے کے غنڈوں ‘ اور ’ منافقوں ‘ سے کروائی جاتی ہے ۔ پِستا ہے عام انسان ۔











