اشاریہ :قاسم سید
ایک لاکھ سے زائد فلسطینیوں کی شہادت اور لاکھوں ٹن بارود برسانے کے بعد بھی اسرائیل اور امریکہ یرغمالیوں کو حماس کی قید سے آزاد نہیں کرواسکے اور یہی نہیں 20 کے عوض اپنے 1968قیدی اسرائیل کی جیلوں سے رہا کرا لیے ،تو عملی طور پر کون بڑا اور طاقتور ثابت یوا ـ اور جنگ سے کیا ملا ،حماس ختم ہوگئی؟ حماس سے ہتھیار ڈلواسکے؟ ملک بدر کردیا گیا ؟جواب ہے نہیں جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے ہی آزاد ہوئے ناـ اس نے کئی بنیادی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سب سے اہم یہ کہ اگر اسرائیل اور امریکہ اپنی جدید ترین انٹیلیجنس، سیٹلائٹ نگرانی اور زمینی و فضائی طاقت کے باوجود یرغمالیوں کا سراغ نہ لگا سکے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ غزہ کی سرزمین پر ان کا کنٹرول محض عسکری دعویٰ ہے، زمینی حقیقت نہیں۔اور حماس ایک زمینی حقیقت ہے اگر نہیں تو فلسطینی اتھارٹی سے بات کیوں نہیں کی گئی ـ
یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ تمام تر تباہی، بمباری اور ہزاروں شہریوں کے قتل کے باوجود اسرائیل نہ اپنی عسکری حکمتِ عملی میں کامیاب ہوا، نہ اپنے بنیادی مقصد یعنی یرغمالیوں کی بازیابی میں۔ دوسری طرف، فلسطینی مزاحمت کے پاس نہ ریاستی ڈھانچہ ہے، نہ وسائل، مگر اس کے پاس عزم، نظم اور مقامی سہارے کا وہ جال ہے جسے دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقتیں توڑ نہیں پائیں۔
خاص طور پر حماس کی خفیہ صلاحیت، زمینی نیٹ ورک اور انٹیلیجنس کی غیر معمولی مہارت نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ نہ صرف لڑائی میں بلکہ معلوماتی جنگ میں بھی اسرائیل سے کئی قدم آگے ہے۔ ایک ایسی تنظیم جس کے پاس نہ سیٹلائٹ ہیں نہ ریاستی وسائل، اس نے دشمن کے وسط میں یرغمالیوں کو مہینوں تک محفوظ رکھا ـ یہ امریکہ کی ا اخلاقی اور عملی ناکامی ہےکیونکہ وہ ایک سال سے "انسانی بنیادوں” پر جنگ بندی یا یرغمالیوں کی رہائی کا راگ الاپ رہا تھا، مگر اصل کامیابی تب ممکن ہوئی جب اس نے بندوق نہیں بلکہ بات چیت کا راستہ چنا۔ اس سے یہ حقیقت اجاگر ہوتی ہے کہ غزہ کا مسئلہ کسی فوجی آپریشن سے حل نہیں ہوسکتا، بلکہ اس کے حل کی واحد راہ سیاسی تصفیہ اور باعزت مذاکرات ہیں۔جو حماس کے بغیر ناممکن ہے ـ یہ استقامت ،عزیمت،شہادت، استقلال،قیادت فراست ،اور بے مثال قربانیوں کی اخلاقی جیت ہے،جس کی بھاری قیمت چکانی پڑی اور دشمن کی اخلاقی و عسکری ہزیمت کہ وہ اتنی تباہی و بربادی اور جینوسائڈ کے باوجود اپنے طے کردہ فوجی و سیاسی اہداف حاصل نہیں کرسکا ، جنگ نہیں مسائل کا حل صرف اور صرف مذاکرات کے راستے سے ہی نکلتا ہے ـ یہ بات فریقین نے ضرور سمجھ لی ہوگی



