یروشلم میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کے دوران اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے اسرائیلیوں، فلسطینیوں اور پورے خطے کو امید فراہم کرنے کے لیے کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔جے ڈی وینس نے امید ظاہر کی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امن منصوبہ چیلنجوں کے باوجود آگے بڑھے گا، استحکام وامن میں کردار ادا کرے گا۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کی پٹی میں جنگ کے خاتمے کے منصوبے کے تحت ایک بین الاقوامی سکیورٹی فورس قائم کی جائے گی، تاکہ اس پٹی میں امن برقرار رہے جب کہ اسرائیل اس سے دستبردار ہو جائے۔
یروشلم میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ آج اپنی بات چیت کے بعد کیے گئے ریمارکس میں ڈی جے وینس نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم کرنے اور کچھ اہم بنیادی انفراسٹرکچر کو فعال کرنے پر کام کر رہے ہیں۔بدھ کو اسرائیلی وزیراعظم نے امریکی نائب صدر سے ملاقات بھی کی ہے۔ملاقات کے دوران نیتن یاہو نے اس بات پر زور دیا کہ ’امریکہ کے ساتھ شراکت داری کی بدولت دنیا میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی ہے‘ اور یہ کہ اسرائیل ’حماس کو الگ تھلگ کرنے اور یرغمالیوں کو واپس کرنے‘ میں کامیاب ہوا ہے،۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمارے پاس اہداف اور انھیں حاصل کرنے کے طریقوں پر معاہدے ہیں اور ہم حماس کو تنہا کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔‘نیتن یاہو نے کہا کہ وہ ’وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو ہونا چاہیے، اور ہماری امریکہ کے ساتھ ایک مضبوط شراکت داری ہے جو ہمارے مفادات کو پورا کرتی ہے اور ایک غیر مستحکم خطے میں استحکام لانے میں مدد کرتی ہے۔‘جے ڈی وینس نے کہا کہ ان کے دورے کا مقصد ’غزہ میں امن کے منصوبے کو فروغ دینا‘، ’غزہ کی پٹی کی تعمیر نو میں مثبت کردار ادا کرنے‘ اور اسرائیل کے ساتھ امریکی تعاون کے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے اپنے ملک کی خواہش پر زور دینا ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ اسرائیل ’امریکی سرپرستی میں‘ کام کرے بلکہ اس سے امید ہے کہ وہ ایک سٹریٹجک پارٹنر اور اتحادی بنے۔
واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو جمعرات کو 48 گھنٹے کے دورے پر اسرائیل پہنچ رہے ہیں۔








