**فارغینِ حفاظِ کرام کی دستار بندی، علم و روحانیت کی فضا میں منعقد ہونے والا پرنور اجتماع
رامپور منیہاران، دارالقرآن اکیڈمی مسجد مولانا عبدالسميع میں عظمتِ قرآن کانفرنس کا انعقاد : (ریان صدیقی) دارالقرآن اکیڈمی مسجد مولانا عبدالسميع میں ایک روح پرور اور ایمان افروز پروگرام بعنوان "عظمتِ قرآن کانفرنس” بموقع فارغینِ حفاظِ کرام نہایت تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوا۔ یہ کانفرنس قرآنِ مجید کی تعلیم، حفظ اور اس کے عملی پیغام کو عام کرنے کے عزم کے ساتھ منعقد ہوئی۔
پروگرام کا آغاز دارالقرآن کے ہونہار طالبِ علم محمد مصطفیٰ کی خوش الحان تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس نے مجمع کے دلوں کو منور کر دیا۔ بعد ازاں محمد حمزہ نے نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی، جس سے فضا درود و سلام کی خوشبو سے معطر ہوگئی۔اس پُرعقیدت محفل کی صدارت ام المدارس دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث،مولانا محمد سلمان بجنوری نقشبندی نے کی، جن کی موجودگی نے کانفرنس کو ایک علمی و روحانی رونق عطا کی۔ مہمانِ خصوصی کے طور پر معروف عالمِ دین مفسرِ قرآن مولانا وصی سلیمان ندوی نے شرکت کی اور "قرآن کی اہمیت اور اس سے وابستگی” کے موضوع پر نہایت دلنشین اور پراثر خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ قرآنِ کریم انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے، اس کی تلاوت اور فہم ہی بندگی کی حقیقی راہ دکھاتا ہے۔
مولانا مجاہد الاسلام حیدرآبادی نے اپنے خطاب میں کہا: "قرآن ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو ہمیں اس دنیا کی تاریکیوں میں سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔ اگر ہم نے قرآن سے رشتہ توڑ لیا تو بھٹکتے رہ جائیں گے۔” مولانا اسعد میاں نے اپنے خطاب میں قرآن کے حفاظ کی فضیلت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: "قرآن حفظ کرنے والا وہ خوش نصیب ہے جو قیامت کے دن اپنے ساتھ دس افراد کو جنت میں لے کر جائے گا۔”
پروگرام کے دوران نعتیں پیش کی گئیں۔ جواں سال شاعر مولانا عبدالرّب حماد ندوی نے نہایت مؤثر انداز میں بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدت کے پھول نچھاور کیے، جسے حاضرینِ مجلس نے پرنم آنکھوں سے سنا۔ کانفرنس کے اختتام پر مولانا محمد سلمان بجنوری نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "آج ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم قرآن کریم کو پڑھنے اور سننے میں تو دلچسپی رکھتے ہیں، مگر اس پر عمل کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ قرآن کا اصل حق تب ادا ہوگا جب ہم اس کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیں۔” ان کے پرمغز اور درد مندانہ کلمات نے سامعین کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑا۔ اختتامی دعا میں انہوں نے امتِ مسلمہ کی اصلاح، اتحاد، اور قرآن سے مضبوط تعلق کی خصوصی دعا کیدعا کے بعد حفظِ قرآن مکمل کرنے والے طلباء محمد اویس، محمد ایان، اور محمد اسماعیل کی دستار بندی کی گئی۔ ان خوش نصیب طلباء کے سروں پر قرآن کی عزت کی پگڑی رکھی گئی اور حاضرین نے گرم جوشی سے ان کی حوصلہ افزائی کی۔
نظامت کے فرائض مولانا صابر حفیظ ندوی نے انجام دیے، جنہوں نے پورے جلسے کو نظم و ضبط کے ساتھ کامیابی سے ہم آہنگ رکھا۔ آخر میں دارالقرآن اکیڈمی کے ڈائریکٹر مفتی ریان ندوی نے تمام مہمانانِ کرام، علماء، اور معاونینِ مجلس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ: "یہ کانفرنس در اصل قرآن کے ساتھ تجدیدِ عہد ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ہر بچہ قرآن کو پڑھنے والا اس کو سمجھنے والا اور اس پر عمل کرنے والا بنے۔”
پروگرام کی کامیابی میں کئی افراد کی محنت و کاوش شامل رہی، جن میں قاری بابر قاسمی، مفتی شاہویز ندوی، مولانا نعیم ندوی، منشی ندیم احمد، حاجی صفیر، حاجی تنویر، مہتاب احمد، جاوید احمد اور فتیم احمد کے نام قابلِ ذکر ہیں۔








