الہ آباد ہائی کورٹ نے بریلی "آئی لو محمد” احتجاج کیس میں دو مسلمانوں ندیم خان اور ببلو خان کو چارج شیٹ داخل ہونے تک ان کی گرفتاری پر روک لگا کر بڑی راحت دی ہے۔
جسٹس سدھارتھ ورما اور جسٹس رام منوہر نارائن مشرا پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ہدایت دی کہ تحقیقات مکمل ہونے تک دونوں افراد کو گرفتار نہ کیا جائے۔
دونوں بھائیوں کو 26 ستمبر کو ہونے والے احتجاج کے سلسلے میں بارہ دری پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا تھا۔ بریلی میں احتجاج "آئی لو محمد” کے پوسٹروں کے خلاف پولیس کی کارروائیوں کے سلسلے کے بعد تشدد پھوٹ پڑا تھا ـ ، "آئی لو محمد” کے بینرز پرکانپور، میں شروع ہونے والی پولیس کی کارروائی ملک گیر کریک ڈاؤن میں پھیل گئی ۔ ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 7 اکتوبر تک ہندوستان بھر میں کل 4,505 مسلمانوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے اور بریلی میں 265 مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں مسلم اسکالر مولانا توقیر رضا خان کی قیادت میں آئی لو محمد کے مظاہرے کے بعد بریلی میں پولیس کی غیر متناسب کارروائی اور مسلمانوں کو انتظامی طور پر نشانہ بنانے کا الزام لگایا گیا ہے۔








