سنبھل سے روزنامہ خبریں کی خصوصی رپورٹ
اترپردیش کا تاریخی شہر جو ان دنوں شاہی جامع مسجد تنازع کی وجہ سے سرخیوں میں رہتا ہے بیدار اور متحرک لوگوں کی بستی ہے ـ
گزشتہ دنوں امید پورٹل پر وقف رجسٹریشن سے متعلق ورکشاپ ہوا ـاس ورکشاپ میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور رہنمایانہ گفتگو سے استفادہ کیا ـ چونکہ اس طرح کے پروگرام عوامی نہیں ہوتے اس لیے اوقاف سے جڑے متولیوں ،وقف کمیٹیوں کے صدور،مساجد کے ائمہ ،درگاہوں ،مدارس کے ذمہ داران کی بڑی تعداد میں موجودگی جہاں منتظمین کی ان تھک محنت کا نتیجہ تھی وہیں اپنی مجرمانہ غفلت کے سبب وقف املاک کے چھن جانے کا اندیشہ اور خوف و تشویش کا عملی اظہار تھا
اس کا اہتمام جماعت اسلامی ہند نے دیگر معاون تنظیموں کے اشتراک و تعاون سے کیا تھا ،جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سکریٹری انعام الرحمن کا وقف پورٹل پر املاک کے رجسٹریشن کے بارے میں پریزینٹیشن بہت عمدہ اور اطمینان بخش تھا ،انیوں نے ہر سوال کا تفصیل سے جواب دیا ،عمومی طور پر ہر ورکشاپ میں سوالات کم وبیش یکساں تھے ،ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ ایک ایسا پمفلٹ ،کتابچہ تیار ہو جس میں رجسٹریشن سے متعلق ہر ممکن سوال کا جواب ہو ـ چونکہ وقت صرف پانچ دسمبر تک ہے اور لاکھوں املاک کا اندراج کرنا ہے اس کا بھرنا اپنے آپ میں سردرد تو ہے ہی اس پر طرہ یہ کہ امید پورٹل کئی سنگین تکنیکی خامیوں سے بھرا پڑا ہے جن کو تاحال دور نہیں کیا جاسکا ہے ،اس سے فکر کے ساتھ گھبراہٹ کا بھی ماحول ہے گرچہ سپریم کورٹ سے توسیع کی درخواست کی گئی ہے امید ہے کہ وقت مل جائے
سنبھل کے ورکشاپ میں جو بات سب سے نمایاں اور ممتاز تھی وہ نہ صرف سامعین میں بلکہ اسٹیج پر شہر کے معزز علما اور کم و بیش ہر مکتبہ فکر کی بھرپور نمائندگی تھی ،انتشار واختلاف کے گرم تھپیڑوں کے دور میں یہ اجتماعیت شبنمی ہوا کے ٹھنڈے جھونکے کا احساس دلاتی ہے ـ اور عوام میں بھی اتحاد و اجتماعیت کا پیغام جاتا ہے جو چلا گیا ، سنبھل نے یہ بھی پیغام دیا کہ آزمائش کے سخت مرحلہ میں محمود و ایاز سب ایک صف میں کھڑے ہیں ،تیسرا خوشگوار پہلو نوجوانوں کی خاصی تعداد میں موجودگی اور بزرگوں کی رہنمائی میں انتظام کی باگ ڈور نوجوانوں کے ہاتھ میں ہونا ـ اس سے لگتا ہے کہ ہماری جنریشن زی مقصدیت کے تئیں سنجیدہ ہے اور وقت کے تقاضوں و چیلنجوں سے نہ صرف آگاہ ہے بلکہ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی تیار ہے
پروگرام سے یہ بھی اندازہ ہوا کہ جماعت اسلامی ہند کے تئیں مسلم سماج میں جو اجنبیت، جھجک اور فاصلہ بوجوہ پیدا کردیا گیا تھا وہ باندھ اب ٹوٹ رہے ہیں ،اجنبیت کی دیواریں منہدم ہورہی ہیں ،اس کی خدمات اور جذبے کی لگن کا اعتراف ہونے لگا ہے،تعاون و اشتراک کے دھاگے مضبوط ہورہے ہیں ،مختلف جماعتوں اور مسلکوں کے درمیان قربتیں اور بڑھ رہی ہیں یہ ملت کے اتحاد و یکجہتی کے لیے بہت خوش آئند ہے
ایک بات یہ نوٹ کی گئی کہ زمینی سطح پر لوگوں کی اکثریت معاملہ کی نزاکت سے ناواقف ہے ،وقف ہر نا کے برابر معلومات ہے ،بڑے پیمانے پر کام کی ضرورت ہے ،جلسوں جلوسوں شورو شرابہ کا عادی بنادیا گیا ہے اس لیے محنت اور استقلال کا جذبہ پروان نہیں پاسکا ،اس کو پوری ملت بھگت رہی ہے
اس ورکشاپ کی نظامت پرویز عالم نے بخوبی انجام دی ،جبکہ معروف عالم دین مولانا محمد میاں نے تذکیر دلپذیر کی ،بہت مدھم لہجہ میں پر اثر تذکیر جو سیدھے دل میں اتر جائے ـ جماعت اسلامی یوپی ویسٹ کے سکریٹری وہاب الدین نے اوقاف کو درپیش چیلنجوں ہر روشنی ڈالی ،ملی فورم کے کنوینر اور اس ورکشاپ کے بھی کنوینر اسد لودھی نے مختصراً سب کا شکریہ ادا کیاـ اس موقع کئی نوجوانوں اور بزرگوں نے وقف اندراج کے لیے اپنی رضاکارانہ خدمات کی پیشکش کی ،ورکشاپ کو کامیاب بنانے میں جنھوں نے اہم رول ادا کیا ان میں فاروق جمال ایڈوکیٹ کنوینر اے پی سی آر سنبھل، عاطف اسرائیلی صدر زیڈ سی آئی سنبھل، حافظ محمد فیصل کوآرڈینیٹر سنبھل (وقف بورڈ)، عدنان صدیقی ، فیضان عالم، خالد حمزہ، احتشام، ۔ چودھری شرف علی خان ، چوہدری ذیشان، عمران قریشی صاحبان وغیرہ قابل ذکر ہیں مولانا محمد میاں کی دعا ہر پروگرام کا اختتام ہوا ـ مقامی امیر جماعت اور ناظم ضلع برادرم افتخار علی خاں ورکشاپ کو بامقصد بنانے میں پیش پیش رہے








