ڈھاکہ: بنگلہ دیش کے خصوصی ٹریبونل نے بنگلہ دیش کی معزول صدر شیخ حسینہ کو سزائے موت سنائی ہے۔ اس کے علاوہ خصوصی ٹریبونل نے سابق پولیس چیف چودھری عبداللہ المامون کو انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔
بنگلہ دیش کے خصوصی ٹریبونل نے سابقہ شیخ حسینہ حکومت کے وزیر داخلہ کو بھی سزائے موت سنائی ہے۔
شیخ حسینہ کو گزشتہ سال کی عوامی بغاوت میں شامل انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی۔ بنگلہ دیش میں عوامی بغاوت نے شیخ حسینہ کے 15 سالہ اقتدار کا خاتمہ کر دیا تھا۔ دارالحکومت ڈھاکہ کے ٹریبونل سے پیر کو سنائے گئے فیصلے کو براہ راست نشر کیا گیا۔
اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے شیخ حسینہ بھارت میں موجود ہیں اور اس کیس کا فیصلہ ان کی غیر حاضری میں سنایا گیا ہے۔
ان پر گذشتہ سال طلبہ کے احتجاجی مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دینے کا الزام تھا۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق ان مظاہروں کے دوران 1400 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔ گذشتہ ہفتے بی بی سی کو دیے ایک انٹرویو میں شیخ حسینہ نے اپنے خلاف عائد کردہ الزام کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ ان کے خلاف پہلے سے طے شدہ فیصلہ سنایا جائے گا۔ٹریبونل نے کہا کہ شیخ حسینہ نے ’ڈرون، ہیلی کاپٹروں اور مہلک ہتھیاروں کے استعمال کا حکم دی‘ جبکہ سابق وزیر داخلہ اور آئی جی نے ’ہتھیاروں کے استعمال کے حکم پر عمل کیا۔‘فیصلے میں کہا گیا کہ ملزمان نے ’جو جرائم کیے ہیں، وہ زیادہ سے زیادہ سزا کے مستحق ہیں۔‘پیر کو شیخ حسینہ کے خلاف فیصلہ سنائے جانے سے قبل دارالحکومت ڈھاکہ میں سینکڑوں مظاہرین جمع ہوئے تھے۔ اس دوران ڈھاکہ میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے پراسیکیوٹرز نے عدالت سے شیخ حسینہ کو سزائے موت دینے کی استدعا کی تھی جبکہ شیخ حسینہ خود پر عائد کردہ الزامات کی تردید کرتی ہیں۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ شیخ حسینہ کے خلاف تین الزامات ثابت ہوئے جن میں سے ایک پر عمر قید جبکہ دو پر سزائے موت دی گئی ہے۔
پراسیکیوشن نے بارہا عدالتی سماعتوں کے دوران الزام عائد کیا تھا کہ ‘شیخ حسینہ جولائی کی بغاوت کے دوران انسانیت کے خلاف تمام جرائم کی ‘ماسٹر مائنڈ’، ‘منصوبہ ساز’ اور ‘اعلی سطح پر حکم دینے والی اہلکار’ تھیں۔









