فرید آباد کی الفلاح یونیورسٹی سخت جانچ کی زد میں ہے۔ دہلی میں لال قلعہ کے قریب 10 نومبر کو ہوئے دھماکے کے ایک ملزم ڈاکٹر عمر نبی کی گرفتاری کے بعد خفیہ ایجنسیوں نے یونیورسٹی کے بارے میں کئی چونکا دینے والے حقائق سے پردہ اٹھایا ہے۔ نبی کبھی یونیورسٹی سے وابستہ تھا دہشت گردانہ سرگرمیوں سے اس کے روابط نے ادارے کے بارے میں نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔
انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق، نبی اس یونیورسٹی سے وابستہ پہلا شخص نہیں ہے جو دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ یونیورسٹی کے مشتبہ کردار کا انکشاف نہ صرف دہلی بلکہ 2008 کے جے پور اور احمد آباد سلسلہ وار بم دھماکوں میں بھی ہوا ہے۔ الفلاح کے ایک سابق طالب علم کا دہشت گرد تنظیموں سے تعلق بتایا گیا ہے۔
سب سے نمایاں ناموں میں سے مرزا شاداب بیگ کا نام دوبارہ سامنے آیا ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ انڈین مجاہدین کا سرگرم دہشت گرد ہے۔ بیگ نے 2007 میں الفلاح انجینئرنگ کالج فرید آباد سے الیکٹرانکس اور آلات سازی میں بی ٹیک مکمل کیا۔ صرف ایک سال بعد، وہ 2008 کے احمد آباد سلسلہ وار دھماکوں میں ملوث پایا گیا۔ بیگ گزشتہ کئی سالوں سے مفرور ہےاور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ افغانستان میں چھپا ہوا ہے۔
جے پور اور گورکھپور سلسلہ وار دھماکےبیگ کا نام 2008 کے جے پور دھماکوں اور 2007 کے گورکھپور کے سلسلہ وار بم دھماکوں میں بھی سامنے آیا ہے۔ جے پور کے حملے سے پہلے، اس نے دھماکہ خیز مواد کی خریداری کے لیے اڈپی کا سفر کیا۔ بیگ نے ریاض اور یاسین بھٹکل کو آئی ای ڈیز کو جمع کرنے کے لیے ڈیٹونیٹرز اور بال بیرنگ فراہم کیے تھے۔ انجینئرنگ کے پس منظر کی وجہ سے وہ بم بنانے کا ماہر سمجھا جاتا تھا۔اس نے احمد آباد دھماکوں سے 15 دن پہلے شہر کا ایک چکر لگایا اور اپنے دہشت گرد ساتھیوں کے ساتھ مل کر لاجسٹک، آئی ای ڈی فٹنگ اور دھماکے کی منصوبہ بندی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس کی جائیداد گورکھپور پولیس نے ضبط کر لی ہے۔ وہ 2008 میں انڈین مجاہدین کے نیٹ ورک کے بے نقاب ہونے کے بعد سے مفرور ہے۔ اس کی گرفتاری کے لیے 1 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔
دہلی دھماکے کے بعد یونیورسٹی کی مشکلات میں اضافہ
لال قلعہ کے قریب خودکش حملے میں 15 افراد کی ہلاکت کے بعد تحقیقاتی اداروں نے الفلاح یونیورسٹی پراہنا شکنجہ مضبوط کر لیا ہے۔ ای ڈی نے الفلاح گروپ کے خلاف بھی کارروائی کی ہے۔ ای ڈی نے دہلی پولیس کی کرائم برانچ کی طرف سے درج دو ایف آئی آر کی بنیاد پر تحقیقات شروع کی ہے۔ یہ الزام لگایا گیا ہے کہ یونیورسٹی نے دھوکہ دہی اور دھوکہ دہی سے NAAC کی منظوری کا دعوی کیا، اس طرح طلباء اور سرپرستوں کو دھوکہ دیا اور ₹ 415 کروڑ کمائے۔
الفلاح گروپ کے چیئرمین جواد احمد صدیقی کو 13 دن کے لیے ای ڈی کی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ پہلی نظر میں منی لانڈرنگ، بڑے پیمانے پر فراڈکا معاملہ لگتا ہے india today اور دینک ہندوستان’ کے آن پٹ کے ساتھ








