امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج بروز جمعہ نیویارک کے نو منتخب میئر ظہران ممدانی سے ملاقات کرنے جا رہے ہیں۔ اس سے پہلے امریکہ بھر کی سیاست میں سوالات اور جوابات کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ ایسے میں اب وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ کہہ کر ممدانی کو بھی نشانہ بنایا ہے کہ ‘ایک کمیونسٹ آ رہا ہے’۔ لیویٹ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی سے بھی ملنے کو تیار ہیں، اگر اس سے امریکی عوام کو فائدہ ہو۔
لیویٹ نے کہا کہ صدر نے خود اعلان کیا کہ منتخب میئر کل اوول آفس آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ "یہ بہت زیادہ بولتا ہے کہ کل ایک کمیونسٹ وائٹ ہاؤس آ رہا ہے، کیونکہ ڈیموکریٹک پارٹی نے انہیں ملک کے سب سے بڑے شہر کا میئر منتخب کیا ہے۔” انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نیویارک سٹی ٹرمپ کی توقع سے کہیں زیادہ بائیں طرف جھکاؤ والا ہوتا جا رہا ہے۔
یہ ملاقات کیوں خبروں میں ہے؟
غور طلب ہے کہ دونوں رہنما گزشتہ کئی ماہ سے اختلافات کا شکار ہیں۔ تاہم، میڈیا رپورٹس کے مطابق، ممدانی کی ٹیم نے حال ہی میں وائٹ ہاؤس سے شہر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور مکانات کے بحران جیسے مسائل پر بات کرنے کے لیے رابطہ کیا، جسے ان کی انتخابی مہم کے مقابلے میں نرم موقف سمجھا جاتا ہے۔ تاہم یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اپنی انتخابی مہم کے دوران ممدانی نے ٹرمپ کو جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ ان کا مقابلہ کرنے کی ہمت صرف ان میں ہے۔
دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹے اور ٹرمپ آرگنائزیشن کے ایگزیکٹو نائب صدر ایرک ٹرمپ نے نیویارک کے نومنتخب میئر ظہران ممدانی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ممدانی ہندوستانی اور یہودی برادری کے لوگوں سے نفرت کرتے ہیں۔ ایرک نے مامدانی کو سوشلسٹ اور کمیونسٹ بھی کہا۔ اب برطانوی نژاد امریکی صحافی مہدی حسن نے ایرک کے اس بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان پر کڑی تنقید کی ہے۔








