نئی دہلی (آر کے بیورو)
اب جبکہ سرکار نے اوقاف املاک کے رجسٹریشن کے لیے بنائے گئے امید پورٹل سے متعلق ایک موقف اختیار کرلیا ہے اور گیند وقف ٹریبونل کے کورٹ میں ڈال دی ہے ،اس سے قبل سپریم کورٹ بھی اس کی مدت رجسٹریشن میں توسیع سے صاف انکار کرچکا ہے اور اس کو بھی ایک ہفتہ سے زاید ہوگیا ،مسلم ہرسنل لابورڈ کا اعلی سطحی وفد آج یعنی جمعرات کو وزیر اقلیتی امور کرن رجیجو سے ملاقات کررہا ہے ـ حالانکہ بورڈ نے کافی پہلے فوری ملاقات کی درخواست کی تھی ،مگر اس کو منظوری اب ملی ہے
ذرائع کے مطابق سرکار شاید پورٹل سے پیدا حقیقی پریشانیوں اور شکایتوں کے مد نظر رجسٹریشن کی تاریخ میں رعایت دینے کے بارے میں سوچ رہی ہے اور ممکن ہے کہ جلد اس کا اعلان ہوجائے -اسی دوران یوپی سے راحت بھری خبر آئی ہے کہ وہاں رجریشن کے لیے چھ ماہ کا وقت مل گیا ہے ،قابل ذکر ہے کہ یوپی میں سب سے زیادہ اوقاف ہیں ،اور سب سے زیادہ تشویش اسی ریاست میں تھی کیونکہ بورڈ نے بیداری تحریک میں یوپی کو لاوارث چھوڑ دیا ہے – کوئی پروگرام کرنے کی ہمت نہیں کرسکا –
بورڈ کے وفد کا ایجنڈا بنیادی طور پر ملک گیر سطح پر رجسٹریشن کی مدت میں توسیع ہے جس کے اشارے ملنا شروع ہوگیے ہیں-یاد رہے کہ بورڈ پورے ایکٹ کی واپسی کے حق میں ہیں ، جولوگ وفد میں ہیں, ان میں بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ،اور جنرل سکریٹری مولانا مجددی کے علاؤہ امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادتِ آللہ حسینی ،جمعیت علمائے ہند (محمود مدنی )کے جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی ،جمعیت علمائے ہند (ارشد مدنی )کے مفتی عبد الرازق مظاہری ،امیر جمعیت اہل حدیث مولانا اصغر امام مہدی سلفی، ایم آر شمشاد ایڈووکیٹ ،کے علاؤہ دیگر جماعتوں کے نمائندے شامل ہیں یہ بات چیت بارہ بجے ہورہی ہے ،بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر قاسم رسول الیاس دہلی سے باہر ہونے کی وجہ سے وفد کا حصہ نہیں ہیں ـ
قابل ذکر ہے کہ بورڈ کا گزشتہ گیارہ سال میں مودی سرکار سے یہ پہلا رابطہ ہے ـ اس سے قبل بورڈ اور مسلمانوں کی دیگر قیادت مودی سرکار سے راپطہ،ملاقات کے امکان یا مشورہ کو سختی سے مسترد کرتی رہی ہے جبکہ مسلمانوں کے ایک بڑے طبقہ کا خیال تھا کہ پارٹی ہو یا سرکار کمیونیکیشن تو ہونا چاہیے ،ورنہ اپنی بات پہنچانا مشکل ہوجاتا ہے رویوں میں سختی آجاتی ہے ـ آخر کار بورڈ کو اس پچ پر آنا ہی پڑا
یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا اس ملاقات کے معنی خیز نتائج برآمد ہوں گے؟جمود وتعطل کی کچھ برف پگھلے گی؟ ،بورڈ کی قیادت کے لیے یہ بڑا امتحان ہے ،ان میں سے زیادہ تر لوگ پہلی بار سرکار کے ساتھ میز پر ہوں گے ـدیکھتے ہیں کہ کیا نتیجہ نکلتا ہے ؟








