تاثرات: ڈاکٹر حسن رضا*
میں اس وقت دبئی میں ہوں اس لئے رفیق محترم ڈاکٹر منظور عالم صاحب کے وفات کی خبر ذرادیر سے موصول ہوئی سن کر دلی صدمہ ہوا انا للہ وانا الیہ راجعون ۔
وہ ایک بڑے وژن،دل کی یکسوئی عزم کی پختگی اور حوصلے و لگن کے ساتھ منصوبہ بند طریقے سے کام کرنے والے بھر پور عملی آدمی تھے ۔
ہندوستان میں1967سے1974کے درمیان مسلم نوجوانوں میں کئی اہم مقامات پر ایک نئی بیداری پیدا ہوئی تھی ان چند نوجوانوں میں ایک نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ دین وملت کے لئے کچھ بڑا کام کرنے کا جذبہ پیدا ہوا ۔اسی دور کے چند پرعزم نوجوانوں کی ٹیم کے ایک نمایاں فرد ڈاکٹر منظور عالم مرحوم بھی تھے جنہوں نے اپنی محنت ذہانت اور طویل المیعاد منصوبہ بندی کے ساتھ ایک اہم ادارہ انسٹی ٹیوٹ آف ابجیکٹیو اسٹڈیز قایم کیا اور اپنا پورا خون جگر اسی کام میں نچوڑ کر لگادیا خوش بختی سے انہیں ایسے نمایاں افراد بھی مل گئے یا انہوں نے ایسے افراد سے ربط قایم کیا ان کے علاوہ تحریک اسلامی کی چند نمایاں شخصیتوں کی سرپرستی بھی ان دنوں انہیں حاصل ہوگیی ۔اللہ جن لوگوں سے بڑا کام لینا چاہتا ہے ان کے لئے حالات سازگار کردیتا ہے ۔یہ اللہ کا خاص فضل ہے جس کو چاہتا عطا کرتا ہے ان کے اس قدم نے یقینا ہندوستان کے مسلمانوں کی ایک اہم دینی اور ملی ضرورت کو پورا کر دیا
۔آزاد بھارت میں مسلم ملت کو ایک ایسےتھینک ٹینک کی ضرورت تھی جو ملک کے بدلتے منظر نامے بالخصوص سیکولر جمہوری سیاست میں مسلم مسایل کی ایڈوکیسی کے فرایض معروضی اور علمی سطح پر انجام دے نیز اپنے مسایل کو سمجھنے اور سمجھانے کے لئے ملک وملت کو بھی سنجیدہ تحقیق و مطالعہ کے کاموں پر لگایے رکھے۔اہل علم کی اس طرح ٹیم بھی تیار ہو ۔ان کے اس کام کی یقینا بزیرایی اور تحسین کی جانی چاہئےاور اس حیثیت سے آزاد ہندوستان میں ملت کے وہ محسن کہے جاسکتے ہیں چنانچہ انسٹیٹیوٹ آف ابجیکٹیو اسٹڈیز میں ان کو بھر پور تعاون ملت کے باشعورطبقے سے ملا
مجھے یاد ہے اس کے قیام کے دوران جب وہ پہلی دفعہ رانچی تشریف لانے تھے توہم لوگوں نے انسٹیٹیوٹ آف ابجیکٹیو اسٹڈیز کے قیام کے سلسلے میں بھر پور تعاون کیا تھا بلکہ وہ ہمارے مہمان تھے اسی وقت اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ اپنے کام کے سلسلے میں بہت یکسو ہیں اور وہ یہ کام پورے شرح صدر کے ساتھ کر رہے ہیں چنانچہ اس ادارے کے ذریعے انہوں نے غیر معمولی کام انجام دیا اور اس کے ذریعے انہوں نے ان حلقوں تک رسائی حاصل کی جو ملک کے فیصلے پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔بین الاقوامی سطح پر بھی انہوں نے اپنے حسن تدبیر سے اپنی ساکھ قایم کی اور اس ساکھ سے ہندوستانی ملت کو فایدہ پہنچایا ہندوستان جیسے ملک میں اور آج کی عالمی صورت حال میں ہمیشہ ایسے افراد اور اداروں کی ضرورت رہے گی جن سے اسلامی کی آفاقی روح تازہ رہے اور اسلام کا تمدنی سرمایہ پوری دنیایے اسلام کا مشترک سرمایہ عملا محسوس ہو اور اس میں ہندوستانی مسلمانوں کی بھی فعال شرکت ہو
موجودہ تنظیمی اور مسلکی دور میں تنظیمیں اور جماعتیں اپنے ملک میں جو بھی خدمت انجام دے رہی ہیں ان کی اہمیت کم نہیں کی جاسکتی لیکن ایک ایسا ادارہ جس کے ذریعے عالم اسلام کے علمی حلقوں کا عالمی ربط تحقیقی سطح پر ضرور رہنا چاہئے تاکہ پورے عالم اسلام میں یہ احساس زندہ اور رواں دواں رہے کہ یہ امت تمام رنگا رنگی کے باوجود ایک ہی تمدنی و علمی روایت کی امین ہے اس احساس کو زندہ رکھنے میں جہاں بڑی علمی اور قاموسی شخصیات کا اہم رول ہے وہاں ایسی شخصیت کی بھی بہت اہمیت ہے جو اپنی انتظامی صلاحیت افراد شناسی کی قوت اور جذبے کی حرارت سے ایک ادارے کو پروان چڑھانے میں اپنی پوری زندگی لگادے یہی اہم کام ڈاکٹر منظور عالم نے انجام دیا اور یہ بہت بڑا کام ہے جو انہوں نے انجام دیا بقیہ دیگر کاموں کے سلسلے میں اختلاف کیا جاسکتا ہے کون آدمی ہے جس سے بھول چوک نہیں ہوتی ہے اس وقت اس کا موقع نہیں ہے انہوں نے ابجیکٹیو اسٹڈیز کے ذریعے جو کام انجام دیا ہے اور جس ہنر مندی اور دوراندیشی سے انجام دیا ہے وہ قابل ستایش ہے اور ان کے لئے وہ صدقہ جاریہ ہے الہ تعالیٰ ان کی لغزشوں کو معاف فرمائے اور ان کے چھوٹے بڑے نیک کاموں کو قبول فرماے ان کے درجات کو بلند کرے اس ادارے کو بہتر اشخاص مہیا کردے۔ان کے اہل وعیال کو صبر جمیل عطا کرے آمین
(*کالم نگار اسلامک ریسرچ اکیڈمی نئی دہلی کے چئیرمن ہیں)










