دادری لنچنگ کیس کے ملزمان کو حال ہی میں یوگی حکومت کی جانب سے کیس واپس لینے کی درخواست کو مسترد کیے جانے کے بعد ایک کرارا جھٹکا اور لگا ہے
خبر کے مطابق سیشن عدالت نے ٹرائل کو منتقل کرنے کی ملزم فریق کی درخواست کوبھی مسترد کر دیا۔ ملزم 2015 میں محمد اخلاق کے قتل کا مقدمہ فاسٹ ٹریک عدالت سے دوسری عدالت میں منتقل کرنا چاہتے تھے۔ عدالت نے کہا کہ فوجداری مقدمات کو محض "سہولت” یا قیاس کی بنیاد پر منتقل نہیں کیا جا سکتا۔گریٹر نوئیڈا میں سورج پور کورٹ کے سیشن جج اتل سریواستو نے حال ہی میں یہ فیصلہ سنایا۔ انہوں نے سپریم
عدالت نے کہا کہ محض قیاس آرائیوں کی بنیاد پر سیشن ٹرائل کو ایک عدالت سے دوسری عدالت میں منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ پٹیشن میں کوئی ٹھوس بنیاد نہیں تھی، اس لیے اسے خارج کر دیا گیا ہے۔چھ ملزمان نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک ہی جج کے سامنے ٹرائل انہیں انصاف سے محروم کر دے گا۔ تاہم عدالت نے اسے قیاس آرائیاں قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا کہ ٹھوس شواہد کے بغیر مقدمے کو منتقل نہیں کیا جا سکتا۔
یہ فیصلہ ایک فاسٹ ٹریک عدالت نے اتر پردیش حکومت کی اس درخواست کو مسترد کرنے کے چند ہفتوں بعد آیا ہے جس میں مقدمہ واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اب دونوں عرضیاں خارج ہونے کے بعد مقدمے کی سماعت اسی عدالت میں جاری رہے گی۔کورٹ کے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فریقین کی سہولت کے لیے یا محض خوف اور اندیشے کی بنیاد پر کیس منتقل نہیں کیا جا سکتا۔








