کشیدگی کے درمیان ایران کو امریکہ کے مقابلے میں دو اہم فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ پہلی بات مذاکرات کی شرائط سے متعلق ہے اور دوسری پوزیشن کے حوالے سے ہے۔ امریکہ ایران کے ساتھ اپنی شرائط پر امن معاہدے پر بات چیت کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ نے عرب ممالک کو بھی مذاکرات میں شامل کرنے کی کوشش کی لیکن ایران نے آخری وقت میں بازی کو پلٹ دیا۔
اب بات چیت صرف اور صرف ایران کی شرائط پر ہو رہی ہے۔ ایران کے اصرار پر امریکا نے یہ اجلاس ترکی کے شہر انقرہ کے بجائے عمان میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مزید برآں عرب ممالک کو مدعو نہیں کیا گیا ہے۔
چار شرطیں تھیں، اب صرف ایک۔
امریکا نے اس سے قبل ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے چار شرائط رکھی تھیں۔ ان میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا روک، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری کو روکنا، افزودہ یورینیم کی منتقلی کو روکنا، اور جنگ بندی شامل ہے۔ تاہم اب بات چیت جوہری ہتھیاروں تک محدود رہے گی۔ امریکہ اور ایران دونوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق امریکی ایلچی سٹیو وٹ کوف اور جیرڈ کشنر کے ساتھ بات چیت جوہری ہتھیاروں تک محدود رہے گی۔ ایران اس سے قبل یہ کہتا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ایک بار پھر جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے جس سے مذاکرات ضروری ہیں۔
مذاکرات انقرہ سے عمان منتقل
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا آغاز ترکی نے کیا۔ ابتدائی طور پر انقرہ میں مذاکرات کی تجویز دی گئی تھی لیکن ایران کے اصرار پر اسے بھی تبدیل کر دیا گیا۔ اب یہ مذاکرات عمان کے شہر مسقط میں ہونے والے ہیں۔ مقام انقرہ سے عمان منتقل کرنا ایران کے لیے ایک اہم فائدہ ہے۔
ایران نہیں چاہتا تھا کہ اس کے مذاکرات ترکی میں ہوں۔ درحقیقت ترکی بھی ان مذاکرات کے ذریعے اپنے مفادات حاصل کر رہا تھا۔ ترکی کی کوشش تھی کہ ایران کا 440 کلوگرام یورینیم اس کی سرزمین پر منتقل کیا جائے۔ مزید برآں ترکی نے عرب ممالک کو بھی شرکت کی دعوت دی تھی۔
ترکی نے مستقبل میں حملوں کو روکنے کے لیے ایران سے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار کرنے کی بھی کوشش کی۔
خامنہ ای مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ن ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر خامنہ ای نے ٹرمپ سے بات کی تو یہ مسئلہ فوری طور پر حل ہو جائے گا۔ تاہم ایران کے خامنہ ای امریکا کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار نہیں ہیں۔ خامنہ ای نے سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ایران کو نگلنا چاہتا ہے۔








